146

14اگست 1947ءقیام پاکستان …. یوم تشکر……تحریر: شگفتہ بی بی

تحریر: شگفتہ بی بی
14اگست 1947ءاسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کا دن 27رمضان کا دن ، برصغیر کے مسلمانوں کے لئے غلامی سے آزادی کا دن ۔ ہر آنے والی 14 اگست ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے ہمارے بزرگوں نے یہ وطن بہت سی قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے اپنے مال کی قربانی ، اپنے عزیز و اقارب سے بچھڑ جانے کی قربانی یہاں تک کہ اپنی جانوں کی قربانی بھی دینے سے دریغ نہیں کیا ۔ برصغیر میں مسلمان سو سال تک غلامی زندگی بسر کرتے رہے وہ وہاں نہ تو اپنی دینی تعلیمات سے آزادانہ عمل پیرا ہو سکے اور نہ اسلامی معاشرتی روایات سے ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جو کہ غلامی میں پسی ہوئی اور جہالت کی تاریکیوں میں سوئی ہوئی قوم کی بیداری کا باعث بنے بلکہ قوم کے لئے معشل راہ بھی بنے اور مسلمانوں میںانقلاب پیدا کیا
بقول اقبال
جس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
ہمارے قائد محمد علی جناح نے اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور آپ کی انتھک کوششوں اور رہنمائی میں ایک آزاد ریاست مملکت پاکستان کو حاصل کرنے کے قابل بنے ۔
بقول اقبال
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
آج ہمارے ملک کے سیاسی حالات قابل شرم ہیں ہزاروں قربانیاں دے کر حاصل ہرنے والے ملک کا آج ہم نے کیا حشر کر دیا نہ اس کی سیاست کو پاک رہنے دیا اور نہ اس کی وضاءکو کیا یہ ویسا ملک ہے جس کا خواب ڈاکٹر محمد علامہ اقبال نے دیکھا کیا ہزاروں ، لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کئے جانے والے ملک کا یہ حال ہونا چہئے تھا جو آج ہے ؟ ہم آج ہر طرف یہ ہی بحث سنتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا کیا ہم نے کبھی اپنا ذاتی احتساب کیا کہ م نے اس ملک کو کیا دیا ؟
بقول اقبال
ابھی تک پاﺅں سے چمتی ہیں زنجیریں غلامی کی
دن آجاتا ہے آزادی کا آزادی نہیں آتی
ہم نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہی نہیںہونے دیا ، جو اقبال نے دیکھا آج بھی وقت ہے خود سے عہد کریں کہ ہم اپنے ملک کے حالات میں مثبت تبدیلی لائےں گے تاکہ آئندہ والی نسلیںہم پہ فخر کر سکیں ۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب غیر ملکی دشمنی عناصراس ملک کا نام تک مٹا ڈالیں گے ، ہمیں اپنے ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا ہے ملک کو رشوت، سود اور کرپشن جو کہ دیمک کی طرح اس ملک کو چاٹ رہی ہے اس سے نجات دلانی ہے
بقول اقبال
خدا کرے کہ میری ارض پاک پے اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
آج اللہ کے ہاں سجدہ شکر ادا کرنے کا دن ہے نہ کہ موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ کا ، آج کا دن اقبال کے خواب کو دہرانے کا دن ہے محمد علی جناح سے وفا نبھانے کا دن ہے ، تجدید عہد اور تشکر کا دن ہے
بقول اقبال
پھر وادی فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشہ دے پھر ذوق تقاضہ دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں