582

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین تحریک انصاف چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں ؟مداحوں کیلئے حیران کن خبر آگئی

تحریک انصاف میں جانے والوں کی لائنیں لگی ہیں، جو موسمی پرندے ہواؤں کا رخ پہچانتے اور فضا کی خوشبو سونگھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ تو آنے والے موسموں سے لطف اندوز ہونے کے لئے اس جماعت کا رخ کر رہے ہیں جو ارکان اسمبلی نہ صرف پورے پانچ سال مسلم لیگ (ن) کی زلفِ گِرہ گیر کے اسیر رہے، بلکہ ان کی وابستگی برسوں پر محیط ہے۔ وہ اگلے موسمی پھل کا مزہ چکھنے کی امید پر تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ یہ جماعت جنوں کو بھی قابو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عین ممکن ہے ان میں سے کسی جن کے پاس الہ دین کا چراغ بھی ہو، جسے رگڑنے سے وزیراعظم کی کرسی کیا تخت طاؤس بھی حاضر کیا جا سکتا ہو لیکن جمعرات کو ایک ٹی وی پروگرام میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی گفتگو سن کر ہم کیا خود اینکر بھی حیران رہ گئے اور ان کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ آپ نے تو اتنا سچ بول دیا کہ باقی ماندہ پروگرام پھسپھسا ہو گیا ہے۔ آپ یہ تو جانتے ہیں کہ جس پروگرام میں لڑائی مار کٹائی کے مناظر نہیں ہوتے یا دھیمی گفتگو کی جاتی ہے یا کسی کی پگڑی اچھالنے سے گریز کیا جاتا ہے، اینکروں کے نزدیک ایسا ٹھنڈا ٹھار پروگرام سننے اور دیکھنے والوں کے جذبوں کو مہمیز نہیں لگاتا اور ان کے خون کی حرارت تیز نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین تو ویسے بھی گفتگو کے بادشاہ ہیں، سماں باندھ دیتے ہیں لیکن یہاں انہوں نے مایوسی پھیلا دی فواد چودھری کی توجہ ادھر نہیں گئی ورنہ انہیں آٹے دال کا بھاؤ بتا دیتے، شعلہ نوائی ان کی تقریروں کا خاصا ہے، بات نزم و ناک بھی ہو، شعلہ نوائی میں فرق نہیں آتا، وہ لاہور میں عمران خان کے جلسے میں شرکت کے لئے خاص طور پر کراچی سے آئے تھے، اگرچہ سٹیج اتنا بڑا بنایا گیا تھا کہ اس میں بہت سے چھوٹے بڑے لیڈر نمایاں ہو کر بیٹھ سکتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب کو جلسے میں شایان شان جگہ نہیں ملی، نہ ہی ان کی تقریرانہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا گیا، ویسے جہاں محمود الرشید اور اعجاز چودھری کو جگہ نہ مل سکی، کراچی والے کو کیا ملتی۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ جو امیدیں لے کر تحریک انصاف میں آئے تھے، ان پر اوس پڑ گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنی پارٹی نہیں چھوڑیں گے، اپنے آپ کو اس عہد کا پابند بنانے کے لئے انہوں نے ایک اعلان بھی کیا تھا جس کی یاددہانی کرانا گستاخی ہوگی، اس کے باوجود وہ تحریک انصاف میں آئے اور اپنے گلے میں کپتان کے ہاتھوں سے پٹکا بھی ڈلوایا لیکن اس وقت سے اب تک وہ تحریک انصاف میں رڑک نہیں رہے تھے لیکن گزشتہ روز انہوں نے جو باتیں کیں وہ چغلی کھا رہی تھیں کہ وہ تحریک انصاف میں خوش نہیں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی ان کی صلاحیتوں سے کماحقہ، فائدہ نہیں اٹھا رہی۔ اگر واقعی ایسا ہے تو جو پارٹی جسٹس (ر) وجیہہ الدین اور حامد خان جیسے رہنماؤں سے فائدہ نہیں اٹھا سکی اس پارٹی میں ڈاکٹر صاحب کیا بیچتے ہیں۔ آپ اگر بھول گئے ہیں تو یاد کرلیں کہ تحریک انصاف نے پارٹی انتخابات کرائے تھے، جن میں پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں پر یہ الزام لگا کہ انہوں نے عہدیدار منتخب ہونے کے لئے ووٹ خریدے، اب آپ اس پر حیران نہ ہوں کہ عام انتخابات میں تو ووٹوں کی خریداری کے الزام لگتے ہی ہیں، بلکہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کے بیس ایم پی ایز پر ووٹ بیچنے کا الزام لگا، جن میں سے 14 کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ پارٹی انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت کیسے ہو گئی تو جناب یہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اس کے ارکان کی تعداد 17 لاکھ ہے، اب جہاں اتنے لوگ ہوں گے وہاں ووٹوں کی خرید و فروخت تو ہوگی، سو یہاں بھی ہوئی اور بہت ہی سینئر رہنماؤں پر الزام لگا کہ انہوں نے ووٹ خریدے اس الزام کی تحقیقات کا کام جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے سپرد کیا گیا جنہوں نے بہت محنت سے یہ نتیجہ نکالا کہ جہانگیر ترین، علیم خان اور پرویز خٹک سمیت بہت سے رہنماؤں نے ورکروں کے ووٹ خریدے، انہوں نے سفارش کی کہ ان رہنماؤں کو تحریک انصاف سے نکالا جائے لیکن اب آپ ہی بتائیں ان کو نکالنا کیسے ممکن تھا۔ اس لئے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو ہی نکال دیا گیا۔ عامر لیاقت حسین کی طرف واپس آتے ہیں جن کا خیال تھا کہ مشکلات کے باوجود مسلم لیگ (ن) پنجاب میں سو نشستیں جیت سکتی ہے۔ اس بات پر ناظرین کو تو جو جھٹکا لگا سو لگا خود اینکر صاحب حیران رہ گئے اور انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ وہ آج سچ بولنے والی گولیاں کھا کر آئے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ بھائی میں نے اللہ کو جان دینی ہے، میں تحریک انصاف میں ہوں لیکن جو زمینی حقائق ہیں ان کے مطابق ہی بات کروں گا پھر وہ کراچی کی جانب آئے اور کہا کہ تحریک انصاف کے لئے کراچی کا الیکشن جیتنا آسان نہیں اور اس وقت وہاں حالات پاک سرزمین پارٹی کے حق میں ہیں۔ اس پر تحریک انصاف کے ایک دل جلے نے فقرہ کسا کہ ڈاکٹر صاحب کا اگلا ٹھکانہ شاید پاک سرزمین پارٹی ہی ہے۔ یہ تو معلوم نہیں کہ عامر لیاقت پاک سرزمین پارٹی میں چلے جائیں گے لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف میں ان کا قیام زیادہ دنوں تک نہیں ہوگا کیونکہ وہ جو امیدیں لے کر اس پارٹی میں آئے تھے وہ پوری نہیں ہوئیں لیکن پارٹی میں جتنی بڑی تعداد میں لوگ آ رہے ہیں اس ہجوم عاشقان میں کسی کے آنے جانے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ عامر لیاقت گئے تو کئی درجن دوسرے آ جائیں گے البتہ آنے والوں کی امیدیں پوری کرنا تو خاصا مشکل ہے۔ دیکھیں نئے آنے والے کس حسن سلوک کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں