12

اعتزاز صاحب ، شکل دیکھ کر ریلیف نہیں دے سکتا ، چیف جسٹس

اسلام آباد(فری ہینڈ نیوز)چیف جسٹس ،جسٹس ثاقب نثار نے چک شہزاد فارم ہاؤسز کیس میں ریمارکس دئیے کہ اعتزاز صاحب، میری مجبوری ہے کہ آپ کی شکل دیکھ کر ریلیف نہیں دے سکتا۔سپریم کورٹ میں چک شہزاد ایگری فارم ہاؤس کیس کی سماعت کیدوران چیف جسٹس اور اعتزاز احسن میں دلچسپ مکالمہ ہوا۔سپریم کورٹ نے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے حکم دیا کہ فارم ہاؤسز پر ساڑھے 12ہزار اسکوائر فٹ سے زائد کی تعمیرات گرادی جائیں۔چیف جسٹس نے سماعت کید وران ریمارکس دئیے کہ ایگرو فارمز میں غیر قانونی تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کے لئے جرمانہ کیا جائے گا اور یہ رقم ڈیم فنڈ میں ڈالی جائے گی۔چیف جسٹس نے فارم ہاؤسز مالکان کے وکیل اعتزاز احسن کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نمازیں بخشوانے آئیں اور روزے گلے نہ پڑوالیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ کے دربار میں کچھ بھی ممکن ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ دربار نہیں عدالت ہے۔چیف جسٹس اعتزاز احسن سے کہا کہ آپ فارم ہاؤسز والوں کے لئے ریلیف مانگ رہے ہیں،کچی آبادی والوں کا کیا قصورہے؟فارم ہاؤسز مالکان کے وکیل نے کہاکہ میرے لئے کچی بستی والے اور فارم ہاؤسز والے برابر ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کچی بستی والوں کو فارم ہاؤسز اور فارم ہاوس والوں کو کچی بستی بھیج دیتے ہیں، کبھی معاشرے کے محروم طبقوں کیلئے بھی بات کیجیے، میں چہرے دیکھ کر ریلیف نہیں دیتا،یہی میرے منصف ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ سی ڈی اے نے رعاتیں دے کر امیروں کو نوازا،فارم ہاؤسز پھل اور سبزیاں اگانے کے لئے دئیے گئے تھیجہاں محلات تعمیر کردئیے گئے،ان لگڑری فارم ہاؤسز میں کون سے کسان رہتے ہیں ان کے نام بتادیں تو شور مچ جائے۔اس پر اعتزازاحسن نے دلیل دی کہ اسلام آباد میں کافی مقدار میں پھل اور سبزیاں ان ہی فارمز ہاؤسز سے آتے ہیں،جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم ان تمام فارمز کو ماسٹر پلان کے خلاف قرار دیں تو آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟کارروائی کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہی ہمیں بتائیں کہ ڈیم کی تعمیر میں فی مربع فٹ کیا ریٹ دیں گے؟ورنہ ہم تمام تعمیرات گرانے کا حکم دے گے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ سی ڈی اے ساڑھے 9ہزار اسکوائرفٹ سے زیادہ تعمیرات کرنے والے فارم ہاؤسز مالکان سے 7ہزار روپے فی اسکوائر فٹ جرمانہ وصول کریں اور ساڑھے 12ہزار اسکوائر فٹ سے زیادہ رقبے پر تعمیرات کو گرادیا جائے۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ چیئرمین سی ڈی اے ایک ماہ کے اندر تمام فارم ہاؤسز کا معائنہ کرکے بیان حلفی پیش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں