36

لک میں بچے دیگچیوں کے ذریعے دریا پار اسکول جانے پر مجبور،تفصیلات جانئے اس خبر میں

آسام(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت سے یہ عبرت انگیز خبر آئی ہے کہ پڑھنے کے جنون میں بہت چھوٹے بچے دیگچی نما برتن میں بیٹھ کر دریا عبور کرتے ہیں اور اسی طرح اسکول جاتے اور واپس آتے ہیں۔بھارتی ریاست آسام کے ضلع بسوا ناتھ کے ایک علاقے ناڈوور میں تعلیم کے شوق میں بچے روزانہ صبح اپنی جان خطرے میں ڈال کر المونیم سے بنی بڑی دیگچیوں میں بیٹھ کردریا یا ندی پار کرکے اسکول پہنچتے ہیں اور اسی طرح واپس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔بڑی دیگچیوں میں بیٹھنے کے بعد بچے اپنے ننھے منے ہاتھوں کو چپو کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک ویڈیو پوری دنیا میں دیکھی گئی جس میں ابتدائی جماعتوں کے بچے یونیفارم میں ’’برتن کشتیوں‘‘ میں تیرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہےکہ تمام خطروں کے باوجود، بچے بہت مہارت سے بڑے برتن کو کشتی کی طرح آگے لے کر جارہے ہیں۔ اس دوران ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بیگ اور کپڑے بھیگنے سے محفوظ رہیں۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دریا میں ایک چھوٹا جزیرہ نما ہے جہاں کوئی پل تعمیرنہ ہونے کی وجہ سے بچے مجبوراً اسی طریقے سے اسکول جارہے ہیں۔اس ویڈیو کے بعد مقامی حکام نے کہا ہے کہ وہ بچوں کےلیے یا تو کشتی کا انتظام کریں گے یا پھر اسکول کو کسی محفوظ اور آسان دسترس والے مقام تک منتقل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں