34

سماجیاتی ترقی انسانی تہذیب و تمدن کا طرۂ امتیاز ہے‘اینکرسہیل وڑائچ

گجرات(نمائندہ فری ہینڈ نیوز)ممتاز کالم نگار و اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ سماجیاتی ترقی انسانی تہذیب و تمدن کا طرۂ امتیاز ہے۔ عطیۂ خون قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے کارخیر اور صدقہ جاریہ ہے۔ انسانیت کے دکھ و غم کا ادراک ایک حساس جذبہ ہے۔ انسانیت کے باہمی روابط اور جذبۂ خدمت ہی انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بخشتے ہیں۔ جامعہ گجرات ایک منفرد تعلیمی ادارہ ہے اور اس کے نوجوان طلبہ سماجی عمل اور معاشرتی ترقی میں براہ راست حصہ لیتے ہوئے وطن عزیز کی مجموعی ترقی کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ نے ان خیالات کا اظہار جامعہ گجرات میں سندس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے رضاکارانہ عطیۂ خون مہم کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تھیلسمیا، ہمیو فیلیا اور بلڈ کینسر کے مریضوں کو رضا کارانہ طور پر خون مہیا کرنے والے ادارہ سندس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار کا مقصد طلبہ کی نوجوان نسل کو رضا کارانہ عطیۂ خون کے عظیم جذبہ و عمل سے روشناس کرواتے ہوئے انہیں دکھی انسانیت کی خدمت کی جانب راغب کرنا تھا۔ ڈائریکٹر سندس فاؤنڈیشن سہیل وڑائچ کے علاوہ دیگر مہمانان اعزازی میں صدر ایوان صنعت و تجارت گجرات عامر نعمان، CEOنیشنل فرنشرز الحاج امجد فاروق، چیئر پرسن سندس فاؤنڈیشن حاجی سرفراز احمد، صدر محمد یاسین خان اور ممتاز سماجی ورکر رضوان امجد شامل تھے۔ جامعہ گجرات کی نمائندگی کا فریضہ ڈائریکٹر میڈیا شیخ عبدالرشید، ڈائریکٹرSSCمحمد یعقوب اورایکسپرٹBICمحمد حیدر معراج نے سرانجام دیا۔ سیمینار میں گجرات کی بزنس کمیونٹی کے نمائندگان، صحافیوں، سول سوسائٹی کے چیدہ اراکین کے علاوہ طلبہ و اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ الحاج امجد فاروق نے کہا کہ فلاح انسانیت کے عظیم تر مقاصد کے لیے عملی اقدامات اطمینان قلب کے حامل ہوتے ہیں۔ پاکستان مخیر اور سخی دل لوگوں کی دھرتی ہے۔ عطیۂ خون صدقہ جاریہ ہے۔ محمد یاسین خاں نے کہا کہ سندس فاؤنڈیشن کے 22سالہ سفر کو کامیاب بنانے میں نوجوان طلبہ کا بڑاہاتھ ہے جنہوں نے رضاکارانہ طور پر عطیات خون پیش کرتے ہوئے ہزاروں قیمتی جانیں بچائیں۔ حاجی سرفراز احمد نے کہا کہ محتاج زندگی انسان کو لاچارومفلوج بنا کر کھ دیتی ہے۔ نوجوان طلبہ کو عطیۂ خون کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے سسکتی ہوئی انسانی زندگی کی مسکراہٹوں کو واپس لانے کی سعی کرنا چاہیے۔ سندس فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر عمران قدیر نے فاؤنڈیشن کی خدمات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے مرحوم سرپرست منو بھائی کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ محمد حیدر معراج نے کہاکہ سندس فاؤنڈیشن اعلیٰ سماجی فریضہ بطریق احسن سرانجام دے رہی ہے۔ زندگی ایک مربوط ارتقا کا سفر ہے۔ بے بس انسانیت کی خدمت کے لیے فلاح و بہبود کے منصوبے اصلاً کارخیر ہیں۔ تھیلسمیا جیسی تباہ کن انسانی بیماری سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام انسانیت کو سینہ سپر ہونے کی ضرورت ہے۔ شیخ عبدالرشید نے کہا کہ بیماری کے خلاف جہاد ایک عظیم فریضہ ہے۔ خون وہ بہترین تحفہ ہے جو اایک انسان کسی دوسرے کی جان بچانے کے لیے پیش کر سکتا ہے۔ نسل انسانی کو عطیۂ خون کی جانب راغب کرنے کے لیے علمی اقدامات کی ضرورت ہے۔ رضاکارانہ عطیہ خون پیش کرنے والے نوجوان لوگ کرۂ ارض پر زندگی کے پیامبر ہیں۔ محمد یعقوب اور محمد حیدر معراج نے مہمان خصوصی سہیل وڑائچ کو جامعہ گجرات کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ شیخ عبدالرشید نے انہیں اپنی تازہ تالیف ’’ علوم ترجمہ :پاکستانی تناظر ‘‘پیش کی۔ سندس فاؤنڈیشن کی ٹیم کو بھی ان کی خدمات کے اعزاز میں امتیازی نشانات پیش کیے گئے۔ بعد ازاں سہیل وڑائچ نے دیگر مہمانوں کے ہمراہ بلڈ ڈونیشن کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے نوجوان طلبہ کا حوصلہ بڑھایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں