13

عصر حاضر میں تدبر قرآن وسیلۂ ظفر و کامیابی ہے‘ڈاکٹر قبلہ ایاز

گجرات(نمائندہ فری ہینڈ نیوز)چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ عصر حاضر میں تدبر قرآن وسیلۂ ظفر و کامیابی ہے۔ پیغام پاکستان کی متفقہ دستاویز قومی فلاح و عافیت کی جانب اہم قدم ہے۔ ایک مثالی معاشرہ کے قیام و استحکام کے لیے قرآن کریم کامل راہنمائی فراہم کرتے ہوئے ابدی اصول و قوانین کا مکمل مجموعہ ہے۔ نئی نسل کو قرآن فہمی کی جانب راغب کرتے ہوئے قومی تعمیر و تشکیل کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ حضور اکرمؐ کی شخصیت و اعمال تعمیر کردار کے لیے ایک کامل نمونہ ہیں۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ان خیالات کا اظہار جامعہ گجرات کے شعبۂ علوم اسلامیہ کے زیر اہتمام دو روزہ عالمی قرآن کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر شعبہ ڈاکٹر ارشد منیر لغاری کی میزبانی میں منعقدہ افتتاحی اجلاس کی صدارت کا فریضہ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے سرانجام دیا جبکہ مہمانان اعزازی میں استنبول سحر یونیورسٹی ترکی کے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ الاحسن اور شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی کے سابق چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد منصوری شامل تھے۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت کا فریضہ استاد شعبہ سید حامد فاروق نے سرانجام دیا۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے مزید کہا کہ دورحاضر کے چیلنجوں کا کماحقہ ٗ مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان میں ایک مربوط و ہم آہنگ معاشرہ کا قیام انتہائی لازم ہے۔ امن کا قیام ریاست کا استحقاق ہے۔ پے در پے چیلنجوں سے نبر آزما ہوتے ہوئے مسائل کا حل اور مواقع کی تلاش زندہ قوموں کا شیوہ ہے۔ پیغام پاکستان ایک امن پسند مستحکم معاشرہ کی تشکیل و ترقی کے سلسلہ میں ایک عظیم قومی بیانیہ ہے۔ ہمیں علم پر مبنی معیشت سے بڑھ کر علم پر مبنی معاشرہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان وسائل سے بھرپور سرزمین اور امن پسند باشندوں کی جنم بھومی ہے۔ خارجہ پالیسی کی آزادی کے لیے معاشی استحکام لازم ہے اور سی پیک معاشی استحکام کی جانب درخشاں قدم ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ الاحسن نے کہا کہ پاکستان تمام اسلامی دنیا کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآنی تعلیمات انسانیت کے لیے ایک سنہری دور کی نوید امن ہیں۔ قرآن کی آفاقی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہم اجتماعی امن عالم کے قیام کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کی گذشتہ ستر سالہ تاریخ پر گہرے غوروتفکر کے بعد پیغام پاکستان کی صورت میں ایک ایسی دستاویز کی جلوہ گری ہوئی ہے جو یقیناًپاکستان کو ایک مستحکم منزل کی جانب گامنز ن کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو لا محدود نعمتوں سے سرفراز کیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد منصوری نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ قرآن کریم ابدی شعور و ابلاغ کا جامع صحیفہ ہے۔ امت مسلمہ میں قرآنی پیغام کو عام کرنا بیداری و آگہی کی نئی منزلوں کی جانب گامزن ہونے کے مترادف ہے۔ قرآنی پیغام نے تمام انسانیت کو ایک وجد آفریں انقلاب سے روشناس کیا۔ قرآنی تعلیمات کی تبلیغ کارخیراور امن و سلامتی کا وسیلہ ہے۔ جامعہ گجرات میں عالمی قرآن کانفرنس کا انعقاد اسی روایت تبلیغ کا احیا ہے جس کی داغ بیل حضور اکرمؐ نے ڈالی۔ قرآن تمام انسانیت کے لیے ابدی ہدایت کا سرچشمہ اور دائمی رحمت کا پیامبر ہے۔ قرآن معاشرتی، معاشی، سماجی غرضیکہ ہر سطح پر نسل انسانی کے لیے راہنمائی فراہم کرتے ہوئے ایک بہترین طرزحیات کی جانب گامزن کرتا ہے۔ قرآن گردش زر کا نظریہ پیش کرتے ہوئے تطہیر مال و زر کا درس دیتا ہے۔ قرآن کانفرنس حیات نو کی داعی ہے۔ ڈاکٹر ارشد منیر لغاری نے اظہار تشکر میں کانفرنس کی انتظامیہ ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں سے آگہی اور الہامی قوانین کی تبلیغ ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمات اور داعئ انقلاب حضرت محمدؐ کی سیرت طیبہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایک متوازن معاشرہ کا قیام قرآن کا مطلوب و مقصود ہے۔ جامعہ گجرات میں منعقدہ اس کانفرنس میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ ان مندوبین میں ملائیشیا سے ڈاکٹر محمد خیری محی الدین ، گلاسگو برطانیہ سے ڈاکٹر لائڈ ریجن، جرمنی سے ڈاکٹر مارٹن محمود کلنر اور مانچسٹر برطانیہ سے شیخ احمد دباغ شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں