13

دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کاتیسرا نمبر

ٹوکیو(فری ہینڈ نیوز)پاکستان پولیس کے سینئر افسر ڈاکٹر اطہر وحید نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا میں جنگ اور دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔پاکستان پولیس کے سینئر آفیسر ڈاکٹر اطہر وحید جو اس وقت ڈی پی او رحیم یار خان تعینات ہیں کی، ان کی بدولت پاکستان کو اعزاز حاصل ہوا ہے۔ انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے لیے قوانین کی تیاری کے لیے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہونے والی اعلی ترین کانفرنس میں بطور ماہر شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ڈاکٹر اطہر وحید پاکستان کے واحد پولیس آفیسر ہیں جنہوں نے ہالینڈ سے وکٹا مائزیشن یا جرائم اور دہشت گردی کے متاثرین کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے یہی وجہ ہے اقوام متحدہ دنیا بھر سے جن بارہ اہم ترین ماہرین کو ٹوکیو میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے ان میں سے ایک ڈاکٹر اطہر وحید بھی ہیں۔ڈاکٹر اطہر وحید نے کہا کہ اقوام متحدہ اس وقات متاثرین جنگ و دہشت گردی کے حوالے سے بھی خصوصی قوانین تیار کررہی ہے جبکہ اس وقت دنیا میں جنگ اور دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ان کے پی ایچ ڈی کا موضوع بھی دہشت گردی کے متاثرین ہی رہے ہیں لہذا اس اہم کانفرنس میں اقوام متحدہ کے لیے قوانین کی تیاری کے لیے انھیں خاص طور پر مدعوعو کیا گیا ہے۔ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق دنیا میں اسی فیصد سے زائد دہشت گردی اور جنگ کے متاثرین میں پاکستان، افغانستان، عراق، شام، لیبیا اور یمن جیسے ممالک شامل ہیں جن کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ اب قوانین کی تیاری پر کام کررہی ہے تاکہ متاثرین کی بحالی کے لیے ان کے حقوق اور قوانین کے مطابق دنیا اپنا کردار ادا کرسکے۔انہوں نے ٹوکیو کانفرنس میں پاکستان میں دہشت گردی کے متاثرین کے مسائل سے کانفرنس کے شرکاء4 کو آگاہ کیا ہے تاکہ اقوام عالم بھی پاکستان کی قربانیوں اور متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرسکیں۔ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا کہ انہیں رواں اور اگلے برس میں چار مزید ممالک سے متاثرین دہشت گردی اور جنگ پر لیکچر کے لیے دعوت دی گئی ہے جہاں وہ پاکستان میں دہشت گردی سے متاثرین اور دہشت گردی میں شہید ہونے والے قانون نافز کرنے والے اہلکاروں کے حوالے سے لیکچر دیں گے۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے پاکستان نے بائیس ہزار عام شہریوں سمیت چھ ہزار سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خدمات انجام دینے والے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں