37

باغ کے مضافات میں انوکھاحکومتی تعلیمی ادارہ۔۔۔؟ارباب اقتدار تعلیمی پالیسی کا نکلتا جنازہ اس کالم میں دیکھ لیں۔۔۔؟

قارئین۔۔۔!! چونکہ ضلع لاہورایک ترقی یافتہ اور سہولیات سے بھر پور شہر ہے جہاں پر زندگی کی پرتکلفی اور مسائل کا رونا دھونا بہت کم نظر آتا ہے اگرچہ یہاں صاف پانی میسر نہیں ،آلودہ فضا کا بسیرا ہے،شوریدگی آلودگی لاہور کے شہریوں کی زندگی کا لازمی جز ہے آپ چاہے کسی گلی میں رہائش پزیر ہوں یا سرِ راہ گزر رہے ہوں تو آپ کو شور کی آلودگی اپنی لپیٹ میں لئے رکھتی ہے انسانی جسم بھی ایک مشین کی طرح ہے جسے کچھ عرصہ آرام کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ مسلسل کام انسانی اعصاب کو تھکا کر رکھ دیتا ہے مگر لاہور جیسے ترقی یافتہ شہر میں آرام نصیبوں سے ہی میسر آتا ہے گویا آپ کو نانیند چین کی آسکتی ہے اور نہ ہی آپکوبیداری میں آرام میسر آسکتا ہے اور یہ صرف لاہور میں نہیں بلکہ یہ کراچی سے لے کرخیبرتک کا یہی حال ہے میں چند لمحے سکون کیلئیضلع باغ کے مضافات میں موجود اپنے آبائی گاؤں کھر ل عباسیاں چلا گیا۔
۔۔۔!! قصہ مختصر میں اپنے گاؤں میں چند ماہ کیلئے قیام پذیر ہو گیا اور یوں اس گاؤں کے ایک ہائیر سکینڈری سکول جس کا نام’’سردار خلیل عباسی (مرحوم)گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول‘‘ ہے کے نظام تعلیم بارے معلومات بھی میسر آگئی اگرچہ یہ دنیا کا واحد سکول ہے جس کی بچیاں اتنی ہونہار ہیں کہ انتہائی نا مساعد تعلیمی اور معاشی حالات کے باوجود آج بھی خود کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے کے لئے اپنے تئیں جستجو کرتی نظر آتی ہیں میں آج آپ کو اس دنیا کے واحد تعلیمی ادارے کی بہت ساری خوبیاں گنوا تا ہوں جو ہمارے جناب عزت مآب صدر مملکت صاحب،وزیراعظم صاحب اور وزیر تعلیم صاحب کے لئے خوشربا ہونگی میری معلومات میں یہ ایک ادارہ ہے تاہم مجھے معلوم نہیں خطہ کشمیر میں اس طرح کے کتنے سکول اور ہیں جہاں اس طرح کی سہولتیں میسر ہیں۔مذکورہ سکول میں موجودتعلیمی سہولیات قارئین بھی ملاحظہ کر لیں ۔
۔۔۔*سکول میں ایک خوبصور ت سائنس لیب ہے مگر سائنس لیب کیلئے لیب اسسٹنٹ نہیں
۔۔۔*سکول میں خوبصورت لائبریری ہال ہے مگر اس کیلئے کوئی لائبریرین نہیں
۔۔۔*سکول میں خوبصورت کمپیوٹر لیب ہے مگر اس کیلئے کوئی کمپیوٹر انسٹرکٹر دستیاب نہیں
۔۔۔*سکول میں میٹر ک/انٹر میڈیٹ(سائنس گروپ) کی کلاسز میں طالبات موجود ہیں مگرمعلمات نہیں طالبات روزانہ خالی ہاتھ آتی اور چلی جاتی ہیں۔
۔۔۔*بائیالوجی،کیمسٹری،فزکس،میتھ،جنرل سائنس سمیت دیگر معلمات میسر نہیں
۔۔۔*سکول میں انتظامی معاملات کو بہتر انداز سے چلانے کیلئے صرف ایک کلرک موجود ہے
۔۔۔*یہ شاید آزاد کشمیر ضلع باغ کا واحد سکول ہے جہاں کئی ماہ سے ہیڈ ماسٹرکی پوسٹ بھی خالی تھی(جو 9نومبر 2018ء کو نئی تعیناتی پر اب خالی نہیں) ہے
۔۔۔*سکول میں خاکروب کی آسامیاں بھی خالی ہیں اورکوئی خاکروب نہیں
۔۔۔*سکول کی جانب آنیوالی سڑک بھی ابھی تک نامکمل ہے
۔۔۔*تقریباً آدھا کلومیٹر کافاصلہ پتھروں پر چل کرہی سکول سٹا ف /طالبات کوطے کرنا پڑتا ہے
۔۔۔*رینٹ اے ٹیچر کی نئی اصطلاح(تعینات ٹیچر کی جگہ متبادل ٹیچر کی معمولی معاوضہ کے تحت خدمات)
قارئین صرف یہی نہیں سکول ہذا میں کوئی طالبہ وغیرہ بیمار ہو جائے تو کوئی ایسی سہولت میسر نہیں کہ اسے فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے کیونکہ یہ سکول متعدد گاؤں (کھرل ملدیالاں،کھرل عباسیاں،چھیتروڑا،چوکی سمیت دیگر گاؤں)کی طالبات کیلئے ایک واحد ہائیر سکینڈری سکول ہے تاہم سکول کے سٹاف کو دیکھ کر حکومت کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر صاحب،صد رمملکت آزاد ریاست جموں کشمیر اور وزیر امور تعلیم سب کی کارکردگی کو یہ سکول منہ چڑھا رہا ہے اور اس کے درو دیوار چیخ کرچلا کر صدائیں لگا رہے ہیں کہ کب ہمارے پاس آنے والی ان طالبات کو معیاری تعلیم میسر آئے گی اور کب قوم کی ان بیٹیوں کے ساتھ انصاف ہو گا ۔یہاں میں حکومتی ایوانوں میں بیٹھنے والی معزز شخصیات سے چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں شاید اُنکے پاس اس کا کوئی جواب ہو اور وہ مجھے کوئی جواب دے کرمیرے اندر کے اس درد کو تسکین بخش سکیں۔

۔۔۔*جنابعزت مآب صدرمملکت سردار مسعود خان صاحب
۔۔۔*جناب عزت مآب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر صاحب
۔۔۔*جناب عزت مآب وزیر تعلیم افتخار علی گیلانی صاحب
۔۔۔*جناب عزت مآب چیف سیکرٹری آزاد کشمیر صاحب
۔۔۔*جناب عزت مآب جناب سیکرٹری تعلیم آزاد کشمیر صاحب
۔۔۔*جناب عزت مآب جناب ضلعی سیکرٹری تعلیم (باغ)آزاد کشمیر صاحب
و دیگر اربابِ تعلیم کیا آپ چاہیں گے
۔۔۔* آپ کی بیٹی ایسے سکول میں داخل ہو جہاں فزکس پڑھانے کیلئے ٹیچر میسر نہ ہو؟
۔۔۔*جہاں میتھ کا ٹیچر نہ ملے ،جہاں بائیو کے ٹیچر کی پوسٹ خالی ہو؟
۔۔۔*جہاں جنرل سائنس کی ٹیچر کی پوسٹ خالی ہو؟
۔۔۔*جہاں نہ کوئی سائنس لیب اور نہ کوئی کمپیوٹر لیب کروانے والا لیب انسٹرکٹر ہو؟
۔۔۔*جہاں کوئی بزم ادب کا پروگرام نہ ہوتا ہواور آپکا بچہ بہتر مقرربننے کے ہنر سے خالی ہو؟
مجھے اور ہر قاری کو جو یہ تحریر پڑھ رہا ہے اُسے یہ یقین ہے کہ آپ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا کیونکہ آپکے بچے تو مہنگے ترین اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہونگے اسلئے آپ کو اندازہ نہیں کہ ایک غریب آدمی کی بیٹی کواگر اچھی تعلیم میسر نہ آسکے اور پھر اُسکے پاس وسائل بھی نہ ہوں تو اُس پر کیا گزرتی ہے یہ تو وہی جانتا ہے جس پر گزر رہی ہوتی ۔
جناب عزت مآب وزیراعظم /صدر مملکت صاحب کیا آپکی جانب سے یہ تعلیمی اصلاحات ہیں اس سکول کی عمارت تک آپکی حکومت کے مرہون منت نہیں وہ بھی امریکہ کی ایک این جی اوز کی کاوش ہے ۔
افسوس صد افسوس اگر آپ اس سکول کی عمارت کو اپنی چشم تر سے دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو کہ ایک غیر مذہب قوم کی کاوشیں اور انکا معیار کیسا ہے اور ہمارا معیار کیساہے مذکورہ این جی اوز کی یہ عمارت واقعی فنون لطیفہ کا حسین شاہکار ہے۔اگر خالی عمارتوں میں حاضری سے علم میسر آتا تو ہرگھر کے اوپر سکول کا سائن بورڈ سج جاتاکوئی والد/والدہ اپنی بیٹی کو کسی تعلیمی ادارے میں نہ بھیجتا مگر قانون فطرت ایسا نہیں۔آپ فطرت کے متضاد تعلیمی نظام کی بنیاد ’’سردار خلیل عباسی (مرحوم) گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول‘‘میں رکھ رہے ہیں اللہ نے آپکو صاحب اقتدار بنا کر ہم میں اعلیٰ و ارفع کیا ہے اسلئے آپ ہمارے لئے صاحبِ صد احترام ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ آپکو ہمارے سامنے جوابدہ بھی بنایا ہے ۔
آپکی تعلیمی پالیسی اور جدید طرز تعلیم کے نظام بارے ریاستی اخبارات میں پڑھ کر بہت خوش تھا کہ چلیںآپ بوسیدہ طرز تعلیم کا خاتمہ کر کے ایک نئے طرزِ تعلیم کی بنیاد رکھ رہے ہیں مگر آپ ہی کے زیر سایہ آپکے شعبہ تعلیم کے ارباب اقتدارکی اس بے حسی پرجس طرح دل خون کے آنسو رویا اسکی بابت یہاں کچھ عرض نہیں کیا جا سکتا ۔
۔۔۔!میں آج بہت دکھی ہوں کہ اس سکول میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے آنے والی طالبات ہمارے کل کے معاشرے کی مائیں ہیں اور یہ آپکا نظامِ حکومت ہے کہ جس کے تحت آپ قوم کی ان بیٹیوں کوبنیادی تعلیم سے آپا ہج کر رہے ہیں ایک جانب خطہ کشمیر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہماری قوم کی بیٹیاں ڈگریاں ہاتھ میں لئے نوکریوں کے لئے دربدر ہیں تو دوسری جانب اسی قوم کی بیٹیوں کیلئے سٹاف تک میسر نہیں جس (Subject)کی بات کریں ٹیچر میسر نہیں ۔بے شمار قوم کی بیٹیوں کاتعلیمی قتل اس ادارہ میں نامکمل سٹاف کے باعث ہو چکا اور اس تعلیمی قتل کے ذمہ دار ضلع باغ کے شعبہ تعلیم کے افسرانِ بالا اور اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ارباب اقتدار کے سر ہے کہ جن کی بے حسی کے باعث یہ اتنی بڑی نا انصافی ہوتی رہی۔
جناب وزیرتعلیم صاحب۔۔۔!میںآپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ با وقار اور دانشور انسان ہے کیا آپ نے کسی ’’رینٹ اے ٹیچر‘‘ کے نظام کو رائج کیا ہے ۔میری آپ سے گزارش ہے کہ اس ادارہ ہذا کا ایک بار وزٹ کریں اور یہاں کے عوا م سے بھی ملاقات کریں اور انکے دل میں موجود دکھ سن کر خود اندازہ کر لیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فیصلہ سازی کی طاقت عطا کی ہے اور اُن تمام ذمہ داروں کو جو اس بے حسی کا مظاہرہ کرتے آرہے ہیں کے خلاف انصاف اور قانون کیمطابق کارروائی عمل میں لائیں اور تمام سٹاف کی باقاعدہ حاضری کا ٹرانسپیرنٹ نظام بھی ممکن بنائیں اور’’رینٹ اے ٹیچر‘‘ کی اصطلاح کا بھی خاتمہ کریں کیونکہ یہ آپکی شان و شوکت کے خلاف ہے ۔
قارئین۔۔۔!! اس کالم میں لکھی گئی تحریر پڑھ کر یقیناًآپکی آنکھیں بھی نم ہو گئی ہونگی کہ ایک ایسا سکول جس میں 600(نوٹ:۔تعداد 5000سے بڑھ سکتی ہے اگر تعلیمی انتظامات بہتر ہو جائیں )سے زائدبچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہوں اور وہاں لمبے عرصے سے آدھا سٹاف ہی میسر نہ ہو تو امیرلوگ تو اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں داخل کروا کر اپنی یہ تکلیف دور کر لیں گے مگر جو غریب کی بچی ہے وہ کدھر جائے گی وہ کہاں سے بھاری بھر فیسیں لائے جو کسی پرائیویٹ تعلیمی ادارے کو اداکر کے تعلیم حاصل کر ے وہ تو پھر اپنے رب سے انصاف طلب کرے گی اور غریب آدمی جس کے پاس اپنی عرضی لے کر جاتا ہے اُس ذات کا انصاف ہر حالت میں قبول کرنا پڑتا ہے ۔
واضح رہے کہ سکول ہذا میں تعلیمی نظام اگر درست کر دیا جائے تو یہاں طالبات کی تعداد5000سے زائد ہو جائے مگر خراب تعلیمی نظام کے باعث طلبہ کی تعداد ہر بدلتے وقت کیساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔
میں امید کرتا ہوں کہ اربابِ اقتدار میرے دل کے اس دکھ کو سمجھیں گے اور اس اتنی بڑی نا انصافی کا ازالہ مستقل بنیادوں پر کر کے میری قوم کی غریب بیٹیوں کی دعائیں سمیٹیں گے اور تکلیف کے ساتھ گزرنے والے میرے بچوں کے ماہ و سال کا ازالہ کرنے کیلئے اس سسٹم کی خرابی کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں