17

نجی اسکولوں کو 2017ء کا فیس اسٹرکچر بحال کرنے کا حکم

کراچی(فری ہینڈ نیوز)سندھ ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کی جانب سے 5فیصد سے زائد فیسوں کی وصولی سے متعلق کیس میں 20 ستمبر 2017ء سے قبل کا فیس اسٹرکچر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے نجی اسکولوں کو ایک ساتھ 3 ماہ کی فیس لینے سے بھی روک دیا۔کراچی میں نجی اسکولوں کی جانب سے 5 فیصد سے زائد فیسوں کی وصولی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران ڈائریکٹر پرائیوٹ اسکولز منسوب صدیقی و دیگرسندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔عدالت کے استفسار پر نجی اسکول کے وکیل کا کہناتھا کہ 2016ء میں فیس اسٹرکچر منظور کیا گیا تھا۔عدالت نے استفسار کیا کہ فیس کی منظوری کس طرح دی جاتی ہے ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں، توہین عدالت کے نوٹس کو سنجیدہ ہی نہیں لیا گیا۔عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ پرائیوٹ اسکولوں کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتے، معاملے کے حل کے لیے 3ماہ کی مہلت دی گئی مگر معاملہ مزید بڑھایا جا رہا ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے 20 ستمبر 2017ء سے قبل کا فیس اسٹرکچر بحال کرنے اور 20 ستمبر 2017ء کے بعد بڑھائی گئی فیسیں ایڈجسٹ کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت عالیہ نے نجی اسکولوں کو ایک ساتھ 3 ماہ کی فیس لینے سے بھی روک دیا۔عدالت نے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر نجی اسکولوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی تنبیہ کی اور کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں