18

کرتار پور کا پاکستان میں ہونا کانگریس کی بڑی غلطی تھی‘مودی

انڈیا(فری ہینڈ نیوز)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 1947 میں تقسیم ہند کے وقت کرتار پور کو پاکستان کے حوالے کرنا کانگریس کی بہت بڑی غلطی قرار دے دیا۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی انتخابی ریلی میں حزب مخالف جماعت کانگریس کوزیرکرنے کیلئے نیا نکتہ نکال لائے اور کہا 1947میں کانگریس رہنماوں کی وجہ سے کرتارپور پاکستان کے حصے میں چلاگیاانہوں نے مزید کہا کہ میری قسمت میں کانگریس کی 70 سال پر محیط غلطیوں کوٹھیک کرنا لکھا تھا، کرتار پور راہداری جیسا مقدّس کام میری قسمت میں لکھا تھا، ہمیں کانگریس سے سوال کرنا چاہئے کہ انہوں نے کرتار پور پاکستان کیوں جانے دیا۔کیا کانگریس نے ذرا بھی اس بات پر توجہ دی کہ یہ گردوارا بھارت سے صرف تین کلومیٹر کی دوری پر ہے اور اسے بھارت سے الگ کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کانگریس سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ان 70 سالوں میں انہوں نے کرتار پور راہداری کیوں نہیں کھلوائی۔مودی نے کہا کہ اس بات کا جواب یہ ہے کہ کانگریس نے سکھ کمیونٹی کے لئے بابا گرونانک کی اہمیت کو جانا ہی نہیں تھا۔کرتارپور کوریڈور،سکھ یاتریوں کی مسافت صرف 6کلومیٹر رہ جائیگی،گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس راہداری کے قیام کا مقصد بھارت کے سرحدی علاقے ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان میں موجود گوردوارا کرتار پور صاحب کا صاف دیدار ممکن بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں