12

وزیراعلیٰ سندھ کی ٹرانسفرلیٹر پر گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت

کراچی(فری ہینڈ نیوز)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ٹرانسفر لیٹر پر گاڑی کا استعمال غیر قانونی ہے، لہٰذا محکمہ ایکسائز کو ہدایت کردی ہے کہ ایسی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیاجائے۔ مراد علی شاہ نے یہ فیصلہ آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں آئندہ ہونے والی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے امن و امان کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر سید ناصر شاہ، وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹر ولی اللہ دَل، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی اور دیگر نے شرکت کی۔ایک سوال پر ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹر ولی اللہ دَل نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی جس شخص کے نام پر تھی وہ یہ گاڑی چھ سال قبل فروخت کرچکا تھا جبکہ پانچ سال پہلے اْس کا انتقال بھی ہوچکا ہے، گاڑی ٹرانسفر لیٹر پر استعمال ہورہی تھی۔اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کریں۔آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے وزیر اعلیٰ سندھ کو جرائم کے اعداد و شما ر پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 2013 میں 61 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ 2018ء میں صرف2 واقعات ہوئے ہیں۔اسی طرح2013 میں ٹارگٹ کلنگ کے 509 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اب 2018 میں ان کی تعداد کم ہوکر صرف 5 ہے۔2013 میں بھتہ خوری کے 575 کیسز ریکارڈ کیے گئے اور اب2018 میں کم ہوکر ان کی تعداد 131 ہے۔اغواء برائے تاوان کے کیسز کے بارے میں بتاتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ 2013 میں 173 کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور2018 میں یہ صرف 12 کیسزرجسٹرڈ ہوئے ہیں۔اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے پولیس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی ہیں اور انہیں جدید اسلحے اور تربیت سے آراستہ کیاہے لہٰذا جرائم کی شرح کم ہوئی ہے۔ اب میں چاہتاہوں کہ تھانہ کلچر تبدیل ہو اس کے لیے میں نے پولیس پبلک فرینڈلی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایاگیاکہ2013 میں 12187 موبائل چھیننے کے واقعات ہوئے تھے جبکہ 2018 میں اس میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 14051 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ان واقعات میں اضافے کے اسباب کے بارے میں بتاتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ ماضی میں امن و امان کی صورتحال ابتر تھی اور لوگ موبائل چھیننے کے واقعات رجسٹرڈ کرانے سے گریز کرتے تھے ، اب امن و امان کی صورتحال بہتر ہے اور لوگوں نے اپنی شکایات درج کرانا شروع کردی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سبب کوئی بھی ہو جرائم پر لازمی طورپر کنٹرول ہونا چاہیے۔ڈاکٹر کلیم امام نے موٹر سائیکلوں اور گاڑیاں چھننے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 2013 میں 5118 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں اور 2018 میں اب ان کی تعداد کم ہوکے 1892 رپورٹ ہوئی ہے۔ اسی طرح2013 میں 980 گاڑیاں چھینی گئیں جبکہ 2018 میں ان کی تعداد 165 ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اہم مقامات مثلاً قونصلیٹس،سی ایم ہاؤس، گورنر ہاؤس، آئی جی آفس کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس فراہم کی جائیں اور وہ لازمی طورپر بلٹ پروف جیکٹ پہنیں۔مراد علی شاہ نے سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ چائنیز قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے دو شہریوں (بلوچستان سے) کے لیے معاوضے کے حوالے سے انہیں سفارشات بھیجیں۔انہوں نے ان سے زخمی سیکوریٹی گارڈ کے علاج کے حوالے سے بھی دریافت کیا۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ زخمی سیکورٹی گارڈ کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال اور علاج ہورہاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں