14

آبادی بڑھ گئی، عمل درآمد کا وقت آگیا، چیف جسٹس

اسلام آباد(فری ہینڈ نیوز)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وسائل محدود اور ضروریات زیادہ ہیں،تیزی سے بڑھتی آبادی پر فوری توجہ کی ضرورت ہے،عمل درآمد کا وقت آگیا ہے۔سپریم کورٹ میں ’بڑھتی آبادی پر فوری توجہ‘ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو بڑھتی آبادی سے متعلق آگاہی دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گذشتہ 60 سال کے دوران آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، بڑھتی ہوئی آبادی سے ہمارے وسائل مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ آئین کے بعد پاکستان میں سپریم ادارہ پارلیمنٹ ہے، وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹرینز اپنا اصل کام یعنی قانون سازی کریں،عدالتی نظام کی بہتری کے لئے پارلیمنٹ کا تعاون درکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تعمیرات کی بھرمار سے سبزہ زار میں کمی آگئی، گزشتہ 40 سال سے پاکستان میں کوئی ڈیم نہیں بنا،آنے والے سالوں میں پانی کی کمی سے تباہ کن اثرات ہوں گے،2025 میں پانی کی قلت بحران کی صورت اختیار کرجائیگی۔چیف جسٹس نے یہ بھی کہاکہ کسی بھی معاشرے کے لیے اہم ترین چیز تعلیم ہے، آگاہی نہ دی گئی تو 30سال کے بعد پاکستان کی آبادی 45 کروڑ تک پہنچ جا ئے گی،پاکستان کی بقا کو یقینی بنانے کے لئے آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی نظام میں بہتری کیلئے تعاون درکار ہے ،انصاف کی فراہمی کیلئے ججز کی تعداد کو بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ مجھے اپنی جوانی میں کچھ وقت ملا کہ میں دانش ور اور شاعر استاد دامن کی صحبت میں وقت گزارپایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں