37

پاک، سعودی مشترکہ تجارتی مشن کا اجلاس

سعودی عرب(فری ہینڈ نیوز) سعودی پاکستانی مشترکہ تجارتی مشن کا 2روزہ اجلاس 13اور 14جنوری کو جدہ میں ہوگا۔ اس کا مقصد پاکستان کے لئے سعودی برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا اور سعودی عرب سے اس کی تعمیراتی اور غذائی اشیاءمیں دلچسپی لینے والی پاکستانی کمپنیوں کو ترغیبات فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام میں سعودی عرب کی 65 اور پاکستان کی 35 کمپنیاں شریک ہوںگی۔ فروغ سعودی برآمدات اتھارٹی قومی مصنوعات اور پیداوار کو دنیا بھر میں رائج کرنے کی پالیسی کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اجلاس میں سعودی عرب کے نائب وزیر توانائی و صنعت و معدنیات عبدالعزیز العبد الکریم اور فروغ سعودی برآمدات اتھارٹی کے سیکریٹری جنرل صالح السلمی شرکت کریں گے۔ اس موقع پر سعودی اشیاءبرآمد کرنے والے تاجر اور پاکستان کے ممکنہ خریدار ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ سعودی مصنوعات کیلئے پاکستانی منڈی میں ممکنہ مواقع کی نشاندہی کی جائے گی۔ اس موقع پر دونوں ملکو ںکی کمپنیو ںکے درمیان مختلف معاہدے بھی ہوں گے۔ انجینئر صالح السلمی نے پاکستان میں سعودی برآمدات کی کھپت کے امکان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تسلی کا پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔ مختلف شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فروغ دیکر ان تعلقات کو عملی شکل دی جارہی ہے۔ تجارتی و اقتصادی شراکت سرفہرست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 5برسو ںکے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کے سوا دیگر اشیاء17ارب ریال کی برآمد کیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کو 191ملین ریال سے زیادہ مالیت کی غذائی اشیاءبرآمد کیں۔ برآمدات میں مشروبات اول ہیں۔ 43ملین ریال کے مشروبات پاکستان بھیجے گئے جبکہ خوردنی تیل کا نمبر دوسرا رہا۔ 40ملین ریال کا خوردنی تیل پاکستان کو برآمد کیا گیا۔ سعودی عرب نے پاکستان کو 365ملین ریال سے زیادہ لاگت کاتعمیراتی سامان بھجوایا۔پائپ 115ملین ریال کے بھیجے گئے۔ رنگ و روغن مصنوعات 77ملین ریال کی ارسال کی گئیں۔ سعودی برآمدات اتھارٹی سعودی وژن2030کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مختلف اسکیمیں نافذ کررہی ہے۔ پاکستان کیلئے سعودی برآمدات کا فروغ اسی کا حصہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں