25

بلوچستان : گندے پانی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت

بلوچستان(فری ہینڈ نیوز)بلوچستان کے علاقے بولان میں پینے کے گندے پانی سے متعلق ازخود نوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کتے، جانور اور انسان ایک ہی جگہ سے پانی پی رہے ہیں، گندے پانی میں غلاظت اور کائی جمی ہوتی ہے انسان یہ پانی پینے پر مجبور ہے، پینے کا صاف پانی مہیا کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔مقامی رہائشی نے بتایا کہ بھاگ ناڑی میں پہلے دو گھنٹے پانی ملتا تھا۔ اب وہ بھی بند ہوگیا، ویڈیو میں جو آپ نے گندہ پانی دیکھا تھا وہ بھی ختم ہوگیا، لوگوں کو پینے کے لیے پانی میسر نہیں،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ امان اللہ کنرانی کو اس کمیشن کا سربراہ بنایا تھا، یہ تو کہہ رہے ہیں گندہ پانی تو اپنی جگہ پانچ دن بجلی کی فراہمی بھی نہیں ہے، اس وجہ سے وہ پانی بھی پینے کو میسر نہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے استدعا کی کہ امان اللہ کنرانی نے جو رپورٹ جمع کروائی ہے اس کی کاپی دے دیں،چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ بھی یہ دیں، آپ کو اپنے علاقے کا علم نہیں؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ ہم مکمل تعاون کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ تعاون کرتے تو تعاون نظر بھی آتا، وزیر اعلی بلوچستان کو بلا لیتے ہیں،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ سیکریٹری پبلک ہیلتھ آئے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کا کام بنیادی سہولیات دینا ہے، کتنی بار کہہ چکے ہیں پانی کے بغیر زندگی کا تصور نہیں، بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ کیا ظلم ہورہا ہے،ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان کی استدعا پر عدالت عظمیٰ نے امان اللہ کنرانی رپورٹ پر جواب دینے کے لیے بلوچستان حکومت کو مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں