45

زیر استعمال موبائل فون پر کوئی ڈیوٹی نہیں‘وہ دو ہوں یا تین، ذلفی بخاری

اسلام آباد(فری ہینڈ نیوز)اوورسیز پاکستانیوں کے مشیر ذلفی بخاری نے کم عرصے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کیا لیکن ہمت نہیں ہاری اور آج وہ وزیر مملکت کے برابر عہدے پر تعینات ہیں اور کابینہ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی نمائندگی کررہے ہیں ، گزشتہ دنوں ذلفی بخاری سے ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔ذلفی بخاری: یوں تو بہت سارے ایشوز ہیں جن پر ہم کام کررہے ہیں اور ابھی تو شروعات ہے ہم بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی بریفنگ لے رہے ہیں تاکہ اہم ترین مسائل پر فوکس ہوکر کام کیا جاسکے تاہم اس وقت ہمارے سامنے جو اہم ترین مسائل ہیں وہ اوورسیز پاکستانیوں کی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مسائل سب سے اہم ہیں۔ سابقہ دور میں مسائل کو حل کرنے کے بجائے بڑھایا گیا تھا اب ہم ان کو حل کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کررہے ہیں جن میں سب سے اہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی زمینوں کے مسائل ہیں جو برسوں قبل اپنی رقم ادا کرنے کے باوجود پلاٹوں سے محروم ہیں خاص طور پر اسلام آباد ،لاہور اور پشاور سمیت کئی شہروں میں اوورسیز پاکستانی اپنی قسطیں بھرنے کے باوجود زمینوں سے محروم ہیں ہم ان کیسوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور عنقریب ان کو ریلیف دیں گے۔ذلفی بخاری: جی ہاں بالکل ڈیوٹی لگائی گئی ہے لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایک تو اوورسیز پاکستانیوں کے ذاتی طور پر زیراستعمال موبائل فون پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہے چاہے وہ دو ہوں یا تین ہوں ڈیوٹی صرف کاروباری استعمال کے لیے لائے جانے والے موبائل فونز پر عائد کی گئی ہے جبکہ ایک موبائل فون جو کسی کو تحفہ دینے کے لیے لایا گیا ہو وہ ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہے تاہم میں نے متعلقہ منسٹری سے بات کی ہے کہ ایک کی جگہ کم از کم دو یا تین فوبائل فونز کو ڈیوٹی فری لانے کی اجازت دی جائے دیکھیں بہتر نتیجہ آئے گا۔ذلفی بخاری: اس مسئلے کا مجھے بھی حال ہی میں علم ہوا ہے اور میں نے اس حوالے سے متعلقہ وزارت میں بات بھی کی ہے تاکہ معلوم ہو کہ پی آئی اے کو جاپان اور دیگر ممالک کے لیے کیوں بند کیا جارہا ہے کوشش کریں گے اگر ممکن ہو تو ایئر لائن کو جاپان جیسے ممالک کے لیے جاری رکھا جاسکے تاہم حتمی فیصلہ حکومت صورتحال دیکھ کر ہی کرے گی۔ذلفی بخاری:کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی ذمہ داری ان کی تعیناتی والیممالک میں مقیم پاکستانی ہنر مندوں اورکمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرنا ہے اب تک ان کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے تاہم ہم ان کی کارکردگی کو چانچنے کے لیے نظام قائم کریں گے اور وہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے بھی رپورٹ لیں گے جبکہ نئے کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کے مزید جانچ پڑتال کے بعد بہترین افراد دوسرے ممالک میں تعینات کیے جائیں گے تاکہ پاکستانی شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے ان سے بہتر طریقے سے رابطہ رکھ سکیں جبکہ ہم جانچ پڑتال کے بہترین نظام کے ذریعے ان کی کارکردگی مانیٹر بھی کریں گے۔ادھرسابق چیئرمین او پی ایف بیرسٹر امجد ملک کے مطابق او پی ایف کی وزارت کے ایک ادارے اوورسیز پاکستانیزفاؤنڈیشن میں ڈھائی ہزار ملازم ہیں جن میں سے پانچ سو ملازمین پر جعلی ڈگری رکھنے کے الزامات بھی ہیں ساتھ ہی اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت کا بہت بڑا حصہ ملازمین کی تنخواہوں پر ہی خرچ ہوجاتا ہے لہٰذا اوورسیز پاکستانیوں پر خرچ کرنے کے لیے وزارت کے پاس رقم نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے جبکہ بیرسٹر امجد ملک نے ذلفی بخاری کو مشورہ دیا ہے کہ کیونکہ انھوں نے سپریم کورٹ میں حلف جمع کرایا ہے کہ وہ وزیر مملکت کے اختیارات استعمال نہیں کریں گے لہٰذا انھیں چاہیے وہ اوپی ایف کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں اور بااختیار بنیں تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل ہوسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں