50

سرکاری افسران پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے درپے ہیں‘طارق جاوید چوہدری

گجرات(نمائندہ فری ہینڈ نیوز)سرکاری افسران پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے درپے ہیں اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے روزبروزلگائے جانے والے نئے نئے ٹیکسیوں کی وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی ادارے گوناں گو مشکلات سے دو چار ہیں ان خیالات کا اظہار صدر آل پنجاب پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی طارق جاوید چوہدری نے گزشتہ روز قصر نور میرج ہال گجرات میں آل پنجاب پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام صوبائی تعلیمی کنونشن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولز ہر سطح پر حکومتی معاون و مدد گار ہیں لیکن حکومت پرائیویٹ سکولوں کو سہولت دینے کی بجائے انہیں پریشان کر رہی ہے دیگر ممالک میں پرائیویٹ سیکٹر کو حکومت سہولیات فراہم کرتی ہے مگر پاکستان میں اس کے برعکس ہو رہا ہے حکومتی مشینری پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو سہولیات دینے کی بجائے اسے تباہ کرنے کے در پے ہے ، ہر چھ ماہ بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ، لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پٹرول کی لاگت میں اضافہ اور دیگر اخراجات نے پرائیویٹ سکولوں پر انڈسٹریز کی طرز پر انکم ٹیکس و اولڈ ایج بینفٹ ، سوشل سیکورٹی ، پروفیشنل ٹیکس وغیرہ جیسے ٹیکسوں کا نفاذ ، پرائیوٹ سکولوں کی بلڈنگ پر کمرشل فیس ، کنوژن فیس جو لاکھوں اور کروڑوں میں بنتی ہے کا لاگو ہونا ۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں وزٹ کے نام پر سالانہ دس ہزار روپے فیس کی وصولی ، ہر سال بلڈنگ کے کرایوں میں 10فیصد اضافہ ، ہر سال فرنیچر اور کنسٹرکشن کی قیمت میں پندرہ سے 20فیصد اضافہ ہر سال ٹیچر ز کی تنخواہوں میں بیس سے تیس فیصد اضافہ ، بورڈ کی فیسیوں میں اضافہ و دیگر اخراجات کی وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بے چینی پائی جاتی ہے طارق جاوید چوہدری نے کہا کہ اگر کسی پرائیویٹ تعلیمی ادارے کو چاہیے وہ چھوٹا ہو یا بڑا سیل کیا گیا تو ہم پرائیویٹ سیکٹر مکمل طور پر بند کر دیں گے اور بھرپور احتجاج کیا جائے گا ، پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلباء کو سرکاری اداروں کی طرح رجسٹریشن اور امتحانی فیس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ۔ افتخار چیمہ نے کہا کہ گورنمنٹ سیکٹر کی طرح پرائیویٹ سیکٹرز کو بھی سہولت فراہم کی جائے سکول بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ اور ہیلتھ سرٹیفکیٹ کے اجراء کو آسان بنایا جائے سکول رجسٹریشن کی کم از کم مدت پانچ سال مقرر کی جائے انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو سہولت دی جائے اس سے پرائیویٹ سیکٹر ترقی کرے گا ۔ چوہدری تسنیم نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹرز سرکاری اداروں سے زیادہ رزلٹ دے رہا ہے اور ہم حکومت کے شانہ بشانہ عوام کی خدمت کر رہے ہیں ہم نے رشوت کا خاتمہ کیا ہے سکول رجسٹریشن کے سلسلہ میں رشوت وصول کرنے والے افسران کے خلاف کاروائی ہوئی اور کئی ایسے افسران جنہوں نے پرائیویٹ سیکٹر سے رشوت وصول کی تھی سے پیسے واپس دلوائے گئے اور ہم اب بھی کہتے ہیں کہ سکول رجسٹریشن کے نام پر کسی کو رشوت نہ دی جائے اور جو رشوت مانگے ہم اس کے خلاف جہاد کریں گے ہم پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے وقار میں اضافہ کیلئے جدوجہد کر رہے یہں چوہدری شیراز گل نے کہا کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بہتری کیلئے ہر تجویز کو خوش آمدید کہیں گے لیکن کسی کو لوٹ مار کرنے یا غنڈہ گردی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، تعلیمی اداروں کی بلڈنگ ، کمرشل فیس و کنوژن فیس کو بلکل ختم کیا جائے اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو سہولت فراہم کی جائے ، سپریٹ آف میتھ کے کنٹری ڈائریکٹر زورین مسعود نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم پرائیویٹ سیکٹر کی جدوجہد میں حصہ لینے کیلئے اسلام آباد سے آئے ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر کے تحفظات کو دور کیا جائے اور پرائیویٹ سیکٹر کی بہتری کیلئے اقدامات کیے جائیں اسلام آباد سے آئے ہوئے چوہدری افضل بابر نے کہا کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ حکومتی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ادارے عوامی خدمت کر رہے ہیں اس موقع پر گجرات ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ ، راولپنڈی ، اسلام آباد ، جہلم ، سرگودھا ، ملتان ، وزیرآباد اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کے نمائندگان نے خطاب کیا اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مسائل پر روشنی ڈالی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں