43

پیدائش کے فوراً بعد بچوں کی کی سماعت کا معائنہ نہایت ضروری ہے‘ڈاکٹر یاسر

گجرات(نمائندہ فری ہینڈ نیوز)پیدائش کے فوراً بعد بچوں کی کی سماعت کا معائنہ نہایت ضروری ہے ان خیالات کا اظہار ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر یاسر نے عائشہ بشیر ہسپتال میں ڈیف کڈز ، میڈلینڈ ٹرسٹ یوکے اور فیملی ایجوکیشنل سروسز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اس مسئلہ میں بھرپور تعاون کر رہا ہے ، ڈاکٹر اعجاز بشیر اور ان کی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے جنہوں نے عائشہ بشیر ہسپتال میں قوت سماعت سے محروم بچوں کی بحالی اور ان کی علاج کیلئے ٹیسٹ کا انتظام کیا ہے اور یہ پراجیکٹ بہت ہی اہم پراجیکٹ ہے جس سے بچوں کی زندگی بدل سکتی ہے کیونکہ جو بچہ پیدائشی طور پر بہرہ پن کا شکار ہوتا ہے وہ قوت گوائی سے بھی محروم ہو سکتا ہے کیونکہ جب تک بچے کو کوئی آواز سنائی نہ دی جائے اس وقت تک بچہ بول نہیں سکتا ۔ ڈی ایچ او گجرات ڈاکٹر ایاز ناصر نے کہا کہ قوت سماعت سے محرومی یا قوت سماعت میں کمی کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں اس مرض کے بارے میں شعور نہیں ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے اور جیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے اگر محسوس کیا جائے کہ اس کی قوت سماعت میں کوئی مسئلہ ہے تو فوری طو رپر اس کا چیک اپ کروایا جائے ۔ صدر پی ایم اے ڈاکٹر سعود افضل نے کہا کہ میں صدر پی ایم اے کی حیثیت سے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے کام کرؤں گا اور ایسے بچے جو قوت سماعت سے محروم ہیں کی بحالی کیلئے اقدامات کریں گے انہوں نے کہا کہ نہ صرف قوت سماعت بلکہ دیگر مسائل کے حوالہ سے بھی اقدامات کیے جائیں گے اور پی ایم اے ایک ٹیم کی حیثیت سے تعاون جاری رکھے گی ۔صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر احتشام نے کہا کہ ڈاکٹر اعجاز بشیر کی کاوشیں قابل تحسین وہ جس انداز میں خدمت خلق کیلئے کوشاں ہیں اس کی مثال نہیں ملتی اور ہم ڈاکٹر اعجاز بشیر کو اس شاندار پراجیکٹ پر مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ضلع بھر سے قوت سماعت سے محروم بچوں کو ٹیسٹ کیلئے پہلے لاہور یا اسلام آباد ریفر کیا جاتا تھا ۔ اب ہم گجرات میں ہی ان بچوں کو بھجوائیں گے تا کہ یہ بچے نارمل شہری بن سکیں ۔ چےئرمین عائشہ بشیر ہسپتال ڈاکٹر اعجاز بشیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں اب اس مرض کی تشخیص فوری ہو جائے تو بہت سی پیچیدگیاں ختم ہو سکتی ہیں اور اگر ہم بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کیلئے اقدامات کریں تو یہ بچے معاشرے کا اہم شہری بن سکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ہم نے محکمہ ہیلتھ کے اشتراک سے پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کے تحت بی ایچ یو کوٹ بیلہ کو فوکل بنایا گیا ہے اور یہاں پر ہیلتھ ورکرز کے ساتھ ملکر بچوں کی سکریننگ کی جا رہی ہے اور ٹیسٹ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔ چےئرمین میڈ لینڈ ٹرسٹ یوکے خواجہ محمد اسلم نے کہا کہ میں دنیا کے 26ممالک میں خدمت سرانجام دے چکا ہوں اور کئی کئی سال گھر بھی جانے نہیں ہوتا ۔ دنیا میں جہاں پر کوئی قدرت آفت مثلاً زلزلہ ، یا سیلاب وغیرہ کی آفت آتی ہے ہم وہاں پہنچتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کا خدمت خلق کے حوالہ سے 75واں چکر لگا رہا ہوں اور ڈاکٹر اعجاز بشیر کی کاوشیں دیکھ کر دلی خوشی ہوئی ہے اور ہم ان کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کام کرتے رہیں گے ۔پراجیکٹ منیجر مس عائشہ نے کہا کہ نوزائدہ بچوں میں کانوں کی انفیکشن کا فوری علاج کیا جائے تو یہ مسئلہ پیدا نہیں ہو سکتا اور جو بچے پیدائشی اس مرض میں مبتلا ہیں کو ہیرنگ ایڈ لگا کر انہیں باعزت شہری بنایا جا سکتا ہے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفےئر چوہدری محمد ارشد نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفےئر اپنی این جی اوز کے ذریعہ ان مسائل کے حل کیلئے اقدامات کر رہا ہے اور ہم عائشہ بشیر ہسپتال کے ساتھ بھرپور تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر پاپولیشن ویلفےئر عفت کمال نے کہا کہ ہماری فیلڈ فورس ، ڈاکٹر اعجاز بشیر کی ٹیم کا حصہ ہے اور جہاں ہماری ضرورت پڑی ہم بھرپور تعاون کریں گے ۔ اس موقع پر بچوں نے مختلف خاکے ، ٹیبلو وغیرہ بھی پیش کیے ، بچوں میں مختلف انعامات بھی دئیے گئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں