21

بجٹ میں ضم شدہ اضلاع کا بجٹ بھی شامل کیا جائے گا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

پشاور(فری ہینڈ نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں ضم شدہ اضلاع کا بجٹ بھی شامل کیا جائے گا جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے این ایف سی سے ملنے والے وسائل کسی اور جگہ لگانے پر پابندی ہوگی۔وزیرا علیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت نئے ضم شدہ اضلاع سے متعلق اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزراء شہرام ترکئی، تیمور سلیم جھگڑا، ڈاکٹر ہشام انعام اللہ، سلطان محمد خان اور مشیر اجمل وزیر نے شرکت کی۔وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد وفاق حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں نئے ضم شدہ اضلاع میں این ایف سی، ججوں کی تعیناتی اور ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے متعدد فیصلے کیے گئے۔وزیراعظم کے مشیر ارباب شہزاد نے اجلاس کو بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے این ایف سی کا 3فیصد حصہ دینے کی راہ ہموار کی جائے گی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں نئے اضلاع کے لیے 17 ہزار آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی سے ملنے والے وسائل کسی اور علاقے میں لگانے پر پابندی ہوگی جبکہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں ضم شدہ اضلاع کا بجٹ بھی شامل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں