80

22سال قبل اپنے ہی شوہر کو آشنا کیساتھ ملکر قتل کرنیوالی اشتہاری ملزمہ ڈرامائی انداز میں آزاد کشمیرسے گر فتار

گجرات(نمائندہ فری ہینڈ نیوز)22سال قبل اپنے ہی شوہر کو آشنا کے ساتھ مل کر قتل کرنے والی اشتہاری ملزمہ کو ڈرامائی انداز میں آزاد کشمیرسے گر فتار کر لیا گیا۔ملزمہ کے انکشاف پر شریک جرم ساتھی صابر علی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق جولائی 1997 ؁ء کوحاجیوالہ کے رہائشی محمد شریف کو قتل کر دیا گیا تھا۔جس کی نعش گاوں سے باہر برساتی نالہ سے بر آمد ہوئی تھی۔ جس کے قتل کا مقدمہ مقتول کے بھائی کی مدعیت میں مقتول کی بیوی ساجدہ اور اس کے آشنا امتیاز عرف گوگا کے خلاف درج ہوا۔ ملزمان قتل کی واردات کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے اور بعد میں اشتہاری ہو گئے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات سید علی محسن نے ایس ایچ او کڑیانوالہ انسپکٹر ملک نذیر کو اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور قتل کے اصل محرکات کو سامنے لانے کا خصوصی ٹاسک دیا، جس پر ایس ایچ اوکڑیانوالہ ملک نذیر نے سب انسپکٹر امجد,اے ایس آئی صداقت اور دیگر ٹیم کے ہمراہ پیشہ وارانہ مہارت اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی کی مدد سے اشتہاری ملزمہ کو ٹریس کر کے آزاد کشمیر سے گرفتار کر لیا۔دوران انٹیروگیشن ملزمہ ساجدہ نے انکشاف کیا کے اس کے امتیاز عرف گوگا کے ساتھ ناجائز مراسم تھے اور وہ اپنے شوہر محمدشریف کو راستے سے ہٹا کر اپنے آشنا امتیاز عرف گو گا کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے آشنا کے ساتھ ملکر اپنے شوہر کو راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی اور شام کو اس نے اپنے شوہر کے کھانے میں نیند آور گولیا ں ڈال دی جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گیا۔اور پھر اس کا آشنا امتیاز عرف گو گا اپنے ساتھی صابر علی ولد محمد رمضان کیہمراہ آگیا اور ہم نے ملکر سوئے ہوئے محمد شریف کو منہ پر تکیہ رکھ کر اس کا سانس بند کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا۔بعد ازاں مقتول کی نعش کو ٹھکانے لگانے کے لئے گھر میں موجودپیٹی میں بند کر کے گدھا گاڑی پر ڈال کر گاوں سے باہر موجود برساتی نالہ میں گڑھا کھود کر دفن کر دیا اور خود آشنا امتیاز عرف گوگا کے ساتھ آزاد کشمیر فرار ہو گئے اور وہاں جا کر دونوں نے شادی کر لی۔ 2012 ؁ء میں اس کا دوسرا شوہر امتیاز عرف گو گا انتقال کر گیا تھا اور وہ اپنے بچوں کے ہمراہ آزاد کشمیر ہی رہ رہی تھی۔ملزمہ کے انکشاف پر اس کا شریک جرم ساتھی صابر علی ولد محمد رمضان قوم مسلم شیخ سکنہ سوک کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔جس نے بھی شریک جرم ہونے کا اقرار کر لیا۔ڈی پی او گجرات سید علی محسن نے 22سال قبل ہونے والی اس قتل کی اندھوناک واردات کو ٹریس کر کے گرفتار کرنے والی ٹیم کوتعریفی سرٹیفیکٹ اور نقد انعام سے نوازا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں