98

پاکستان کے تمام طبقات و قومیتیں وطن عزیز کی سلامتی و بقا کیلئے یک جان ہیں‘سینیٹر گیان چند

گجرات(نمائندہ فری ہینڈ نیوز)پاکستان کے ممتاز سینیٹر گیان چند نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام طبقات و قومیتیں وطن عزیز کی سلامتی و بقا کے لیے یک جان ہیں۔ مذہبی ہم آہنگی روشن خیالی کی علمبردار اور تحفظ پاکستان کی ضامن ہے۔ آئین پاکستان تمام اقلیتوں کو برابر درجہ کے شہری کا حق دیتا ہے۔ قائدا عظم کا تصور پاکستان اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا آئینہ دار تھا۔ سینیٹر گیان چند نے ان خیالات کا اظہار جامعہ گجرات کے شعبہ علوم اسلامیہ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی کانفرنس’’پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کو درپیش خطرات:حکمت عملی و حل ‘‘ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کا فریضہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد فہیم ملک نے سرانجام دیا۔ میزبانی کی ذمہ داری صدر شعبہ علوم اسلامیہ ڈاکٹر ارشد منیر لغاری نے سنبھالی جبکہ دیگر مہمانان اعزازی میں سیکرٹری لاو جسٹس کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر محمد رحیم اعوان، ڈائریکٹر جنرل اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق اور سابق سیکرٹری تعلیمات گلگت و بلتستان پروفیسر مہر داد خاں شامل تھے۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت کا فریضہ سینیئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر محمد ریاض محمود نے سرانجام دیا۔ سینیٹر گیان چند نے مزید کہا کہ علم ایک لازوال سرمایہ ہے اور علمی روایات کی روشنی میں مذہبی ہم آہنگی کے تمام تقاضوں کو ملحوظ خاظر رکھتے ہوئے پاکستان کے اکثریتی و اقلیتی طبقات کو تحفظ وطن کے لیے کمر بستہ ہونے کی از حد ضروت ہے۔ علمائے پاکستان کو اپنی تمام تر کاوشیں بروئے کار لاتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بیٹرا اُٹھانا چاہیے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد فہیم ملک نے اس موقع پر پیغام پاکستان کی روشنی میں نوجوان طلبہ میں برداشت و رواداری اور اخوت و امن کے فروغ کے لیے سائبان پاکستان پراجیکٹ کے افتتاح کا اعلان کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد فہیم ملک نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے ہم آہنگی و باہمی تعان سے کام کرتے ہوئے وطن عزیز کو عظیم کامیابیوں سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ انسانیت کی اعلیٰ اقدار پر عمل پیرائی شرف انسانیت اور خوشنودی خالق کا وسیلہ ہے۔ تعلیم و تربیت اانسانی ذہنی تشکیل میں اہمیت کی حامل ہے۔ اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ کو مطمؤ نظر ٹھہرا کر ہم ایک متوازن دورخشاں معاشرہ و سماج تشکیل دے سکتے ہیں۔ طلبہ کی کردار سازی جامعات کا اولین فریضہ ہے۔ ڈاکٹر رحیم اعوان نے کہا کہ پیغام پاکستان ہر شہری کے ایمان ویقین کا حصہ ہے۔ ایمان ویقین کا بنیادی مطالبہ انسانیت کی اعلیٰ اقدار کو فروغ دیتے ہوئے تکمیل انسانیت ہے۔ دین اسلام میں جبر و اکراہ کو ناپسندیدہ ٹھہرایا گیا۔ فطرت کے وسائل پر تمام انسانیت کا حق مساوی ہے۔ آئین و قوانین پاکستان کی رو سے پاکستان کے ہر شہری کو اپنے مذہب و عقیدہ کے سلسلہ میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ اسلام کے آفاقی اصولوں کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیا ء الحق نے کہا کہ پیغام پاکستان ایک واضح قومی بیانیہ ہے اور اس کی پاسبانی و راہنمائی معاشرہ کو امن و سلامتی کی وسعتوں سے آشنا کرتے ہوئے ترقی و بقائے پاکستان کی ضامن ہے۔ پاکستان ہماری شناخت اور پہچان ہے۔ پیغام پاکستان سنٹر بانیان پاکستان کے خوابوں کی تعبیر اور پاکستان کو درپیش مسائل و خطرات کا حل ہے۔ تنوع میں وحدت کی لگن قومی یکجہتی کا بہترین استعارہ ہے۔ پروفیسر مہر داد خاں نے کہا کہ وحدت بشریت انسانیت کا سرخیل ہے۔ پاکستان تنوع سے بھرپور خوبصورت سرزمین ہے۔ انسانی سطح پر عوام کے دکھ درد کا ادراک و درماں اور مسائل کے حل کے لیے پر خلوص کاوش اصل شرف انسانیت ہے۔ اتحاد و اتفاق ایک نور ہے جو ہماری نوجوان نسل کو اعلیٰ انسانی اقدار سے روشناس کرواتے ہوئے سماج و معاشرہ کی تعمیر نو کی پائیدار بنیادوں پر تشکیل میں مددگار ہے۔ بہترین مواقع سے بھرپوراستفادہ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتا ہے۔ ڈاکٹر ارشد منیر نے کہا کہ پیغام پاکستان ایسا پیغام ہدایت ہے جو سر تاسر امن و آشتی کا علمبردار ہے۔ پیغام پاکستان کی روح پر صحیح معنوں میں عمل ایک ترقی یافتہ اور امن یافتہ سماج و معاشرہ کی روشن نوید ہے۔ دو روزہ کانفرنس میں ملک بھر سے تقریباً200علماء ، اساتذہ اور ایم فل و پی ایچ ڈی سکالر مختلف موضوعات پر اپنے علمی مقالات پیش کرتے ہوئے وطن عزیز کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں