39

نئی دہلی: جاوید اختر برقع کےساتھ گھونگھٹ پرپابندی کےمطالبہ پر ہندوانتہا پسند طیش میں آگئے

نئی دہلی(فری ہینڈ نیوز)جاوید اخترکا برقع کے ساتھ گھونگھٹ پرپابندی کا تنازع ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، ہندو انتہا پسندوں نے جاوید اختر کے گھونگھٹ پر پابندی کے مطالبے پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہیں دھمکاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جاوید صاحب اپنے بیان پر معافی مانگ لو ورنہ ہم تمہاری آنکھیں نکال دیں اور زبان کھینچ لیں گے اورتمہارے گھر میں گھس کر تمہیں ماریں گے ۔ انتہا پسندوں کی اس دھمکی کے بعد جاوید اختر کو سخت سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے ۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جاوید اختر برقع اور گھونگھٹ تنازع پر ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں پر پھٹ پڑے اورانتہاپسندوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو میری کوئی بات بری لگی ہے یا مجھ سے کوئی شکایت ہے توعدالت جاوَ اورمجھ پر مقدمہ کرو لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ مجھے اس طرح کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور معافی مانگنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ جاوید اختر نے مزید کہا یہ وہ بھارت نہیں ہے جہاں میں بڑا ہوا، جہاں ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے پہچانے جاتے ہیں ۔ مجھے اپنے آئین پر فخر ہے جو مجھے اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے لیکن اب مجھے تھوڑا افسوس ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ہندو انتہا پسندوں اورحکمران جماعت بی جے پی نے بھارتی خواتین کے برقع پہننے اورنقاب پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا جس پر جاوید اختر نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا اگر برقع پر پابندی لگی تو راجستھان کی ہندو خواتین کے گھونگھٹ پر بھی پابندی لگنی چاہئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں