51

پیرس ایئرشو، پاکستانی جےایف17 ٹھنڈر کے نام

فرانس(فری ہینڈ نیوز) سال 2019 ایئر شو میں میزبان ملک فرانس کے رافیل کے علاوہ پاکستانی طیارہ جے ایف 17 تھنڈر وہ واحد طیارہ ہے جو شو میں شامل ہے جس کے با صلاحیت پائلٹوں نے جے ایف 17 تھنڈر کی صلاحیتوں کو پیش کرکے عوامی توجہ حاصل کر رکھی ہے ۔ کچھ عرصہ قبل جے ایف 17 تھنڈر کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے والےبھارتی طیارے بھارتی ساختہ جنگی طیارہ ،ہال تیجاس ،، پیرس شو میں آنے کے قابل ہی نہیں رہا حالانکہ قبل ازیں دیگر کئی ممالک میں منعقدہ،ایئر شوز میں وہ شامل رہا ہے۔ بھارتی ساختہ جنگی طیارے ’’ہال تیجاس‘‘ (HAL Tejas) کو چند ماہ قبل مقبوضہ کشمیر میں جے ایف 17 ٹھنڈر کے ہاتھوں شکست ہوئی مگر حالیہ پیرس ایئر شو سے بھارتی طیارہ آؤٹ رہا ۔ واضح ہو 1969ء میں بھارتی حکومت نے طے کیا کہ سرکاری ادارہ، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ یا ’’ہال‘‘ ایک جنگی طیارہ بنائے گا۔ ہال نے 1975ء تک اس طیارے کا ڈیزائن تیار کرلیا۔ تاہم بھارتی فضائیہ کی عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبہ ’’کھوہ کھاتے‘‘ چلا گیا۔ 1983ء میں بھارتی فضائیہ کو احساس ہوا کہ اس کے مگ21 طیارے فرسودہ ہورہے ہیں۔ چنا نچہ مقامی جنگی طیارہ بنانے کا درج بالا پروگرام پھر زندہ ہوگیا۔اور بھارتی حکومت نے یہ طیارہ بنانے کے لیے ’’ایروناٹیکل ڈویلپمنٹ ایجنسی‘‘ نامی سرکاری ادارہ قائم کردیا۔ اس ادارے میں عسکریات سے وابستہ لیبارٹریاں، صنعتی آرگنائزیشن اور تحقیقی مراکز شامل تھے۔ ان میں سب سے نمایاں ہال ہی تھا۔ اس ادارے کو ہال تیجاس نامی جنگی طیارہ بنانے کی ذمے داری سونپی گئی۔لہذا بھارتی ماہرین ستائیس برس بعد 2010ء میں ایسا ہال تیجاس تیار کرپائے جسے بھارتی فضائیہ کے حوالے کیا گیا ۔ رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ مختلف آزمائشی مراحل سے گزر رہا تھا ، بھاری فضائیہ پوری طرح اس جنگی طیارے کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھی پھر بھی 120 ہال تیجاس کا آڈر دے کر اسکی اہمیت بڑھنے کی کوشش گی۔ دوسری طرف ہال تیجاس کے مقابلہ جنگی جہاز، جے ایف۔17 بنانے کا منصوبہ چین اور پاکستان نے 1995ء میں شروع کیا۔ پاکستانی اور چینی ماہرین نے شبانہ روز محنت و کوشش کے بعد صرف سات سال میں پہلا آزمائشی جے ایف17- تیار کرلیا۔ مارچ 2007ء میں اولیّں جے ایف17- طیارے پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہوگئے۔ پاک فضائیہ تقریباً دو سو یہ طیارے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ہال تیجاس اور جے ایف17-، دونوں کا شمار جنگی طیاروں کی ’’فورتھ جنریشن‘‘ نسل میں ہوتا ہے۔ گو بھارتیوں کا دعویٰ ہے کہ عمدہ میٹریل اور جدید آلات کی موجودگی میں ہال تیجاس4 اعشاریہ 5 جنریشن کا طیارہ ہے۔ یہ دونوں یک نشستی ملٹی رول جنگی طیارے ہیں، یعنی فضا، زمین اور سمندر، تینوں مقامات پر ہر قسم کی فضائی جنگ لڑ سکتے ہیں۔ دونوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 2200 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ تاہم جے ایف 17 کی حد مار (Combat radius) زیادہ ہے یعنی 1352 کلو میٹر جبکہ ہال تیجاس 500 کلو میٹر کی حد مار رکھتا ہے۔ دونوں طیارے پچاس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی طرح زیادہ سے زیادہ دور جانے کی صلاحیت (Ferry/Range) بھی جے ایف 17 کی زیادہ ہے یعنی 3482 کلو میٹر۔ جبکہ ہال تیجاس اپنے ایندھن سمیت 1700 کلو میٹر دور ہی جاسکتا ہے۔ جسامت میں بھی جے ایف 17 زیادہ بڑا ہے۔ اس میں روسی کلمت انجن جبکہ ہال تیجاس میں امریکی جنرل الیکٹرک انجن نصب ہے۔ امریکی انجن کچھ زیادہ طاقتور ہے مگر فرق معمولی ہے۔ جے ایف 17 اور ہال تیجاس، دونوں کی ایک بڑی خصوصیت سستا ہونا ہے۔ ڈھائی سے تین کروڑ ڈالر (ڈھائی تا تین ارب روپے) میں ایک طیارہ تیار ہوجاتا ہے جبکہ جے ایف 17 اور ہال تیجاس سے ملتی جلتی عسکری خصوصیات رکھنے والا ایف 16 طیارہ آٹھ نو کروڑ ڈالر میں پڑتا ہے۔ اسی لیے ایشیائی اور افریقی ممالک کے لیے جے ایف 17 اور ہال تیجاس، دونوں خاصے پُرکشش ہیں۔ یہ ممالک اتنے امیر نہیں کہ امریکی، یورپی اور روسی ساختہ مہنگے جنگی طیارے خرید سکیںمگر وہ جے ایف17 یا ہال تیجاس خرید کر اپنا فضائی دفاع مضبوط تر بناسکتے ہیں۔ چونکہ جے ایف17 اور ہال تیجاس قیمت اور عسکری خصوصیات میں ملتے جلتے ہیں، اس لیے بین الاقوامی منڈی میں ان کے مابین یہ دلچسپ مقابلہ جنم لے چکا کہ کون سا طیارہ زیادہ تعداد میں فروخت ہوگا۔اس مقابلے میں بعض وجوہ کی بنا پر جے ایف 17 کا پلّہ بھاری ہے۔ اول وجہ یہ کہ پاکستانی ماہرین نے جے ایف17 کے نئے ورژن (بلاک2) کی تیاری کا کام شروع کردیا ہے۔ یہ آلات، میٹریل اور عسکری خصوصیات میں پہلے ورژن (بلاک1) سے بہتر ہے۔ جبکہ پاکستانی ماہرین بلاک 3 ورژن کی تیاری پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہال تیجاس کا پہلا ورژن (ایم کے1) ابھی آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے جبکہ اگلے ورژن (مارک2) پر 2019ء میں کام شروع ہوگا۔ جے ایف17 خریدنے کے لیے اب تک مصر، ارجنٹائن، ملائشیا، برما، سری لنکا اور نائیجیریا دلچسپی لے چکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں