54

قائد اعظم کی دست و بازو بہن، مادر ملت فاطمہ جناح

کراچی(فری ہینڈ نیوز) انیس سو دس میں میٹرک اور انیس سو تیرہ میں سینئر کیمرج کا امتحان پرائیویٹ طالبہ کی حیثیت سے پاس کرنے کے بعد انیس سو بائیس میں ڈینٹسٹ کی تعلیم مکمل کی اور اگلے ہی سال بمبئی میں ڈینٹل کلینک کھول کر پریکٹس شروع کردی، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گھریلو اور سیاسی زندگی میں قائد اعظم محمد علی کا ساتھ دینا شروع کردیا۔ قائداعظم کا ساتھ دیتے ہوئے انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم کا ساتھ دیا اور انہی کی بدولت برصغیر کے گلی کوچوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک میں سرگرم ہوئیں۔ 1940ء میں اس تاریخی اجلاس میں شرکت کی جس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ سات اگست 1947 کو محترمہ فاطمہ جناح 56 سال کے بعد دہلی کو الوداع کہہ کر کراچی منتقل ہو گئیں اور قائداعظم کی وفات کے بعد کئی برسوں تک بھائی کی جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ 25 دسمبر 1955 کو محترمہ فاطمہ جناح نے خاتون پاکستان کے نام سے کراچی میں اسکول کھولا، اس اسکول کے لئے حکومت کی جانب سے تقریباً 13 ایکڑ زمین دی گئی۔ 1962 میں اس اسکول کو کالج کا درجہ دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح ہر مقام اور ہر میدان میں خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ دیکھنے کی خواہاں تھیں وہ جب تک زندہ رہیں تب تک انہوں نے خواتین کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں لازوال کردار ادا کرتے ہوئے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کی بدولت برصغیر کی خواتین بھی تحریک پاکستان میں شامل ہوئیں، قیام پاکستان کے لیے انتھک کوششوں پر قوم نے انہیں مادر ملت کا خطاب دیا۔ 9جولائی 1967 کو 76سال کی عمر میں ایک عظیم بھائی کی عظیم بہن کا انتقال ہوگیا اور انہیں کراچی میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں