33

ایڈز کی روک تھام کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے، وزیراعلیٰ

کراچی(فری ہینڈ نیوز) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایچ آئی وی پر کنٹرول اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 600 ملین روپے مختص کیے ہیں اور ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کے لیے ایک ارب روپے کا انڈونمنٹ فنڈ بھی قائم کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکا سے آنیوالے گلیڈ سائنسز نامی تنظیم کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جس نے آج چیف منسٹر ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت تنظیم کے نائب صدر کلفورڈ سموئیل کررہے تھے۔ وفد کےدیگر اراکین میں مس ہیما سرینی ویسن سینئر ڈائریکٹر جنوبی ایشیاء، کلاڈیو لیلین فیلڈ سینئر ڈائریکٹر گورنمنٹ افیئرز ایشیاء پیسیفک اور فیروز سنز لیب کے سی ای او عثمان خالد وحید شامل تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے جب ضلع لاڑکانہ کے شہر نوڈیرو میں ایچ آئی وی سے متاثرہ کچھ لوگوں کے بارے میں سنا تو انہوں نے متاثرہ افراد کی اسکریننگ کے لیے خصوصی ٹیمیں بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کو دبانے کے بجائے علاقے کے لوگوں کی اسکریننگ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ 32151 لوگوں کی اسکریننگ کی گئی، جن میں سے 936 افراد بشمول 770 بچے اور 166 نوجوان ایچ آئی وی پوزیٹیو سے متاثرہ پائے گئے، انہوں نے کہا کہ 936 مریضوں میں 47 فیصد مرد اور 53 فیصد خواتین ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایچ آئی وی مریضوں کی عمروں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 936 ایچ آئی وی پوزیٹیو کیسز میں 56 فیصد مریض 5 سال کی عمر کےہیں، 26 فیصد کی عمریں 5 تا 14 سال کے درمیان ہیں، 16 فیصد کی 15 تا 45 سال اور 2 فیصد کی 45 سال سے زائد عمر ہے۔ مراد علی شاہ نے اپنی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ چلڈرن اسپتال لاڑکانہ میں بچوں کے علاج کا نیا مرکز قائم کیاجارہا ہے، اسی طرح کا مرکز تعلقہ ہیڈکوارٹر اسپتال رتوڈیرو میں بھی قائم کیا جارہاہے۔ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی (ایس بی ٹی اے) نے غیر قانونی بلڈ بینکس کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے اور اتائی کلینکس کو بھی سیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ چند عمودی پروگرام مثلاً لیڈی ہیلتھ ورکرز، ای پی آئی، نیوٹریشن، ایم این سی ایچ اور انسداد ہیپاٹائٹس بھی موثر طریقے سے رتوڈیرو لاڑکانہ میں چل رہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے لاڑکانہ میں آٹو لاک سرنجز بھی متعارف کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی این جی اوز اور یو این ایجنسیز مثلاً یونیسیف، ڈبلیو ایچ او، یو این ایڈ، جی ایف اے ٹی ایم، یو ایس ایڈ اور جے ایس آئی کو فنی تعاون کے لیے آن بورڈ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال، سیوٹ اور دیگر ادارے علاج، اسکریننگ، متعلقہ میڈیکل افسران اور ٹیکنیکل اسٹاف کی استعداد کار میں اضافے میں تعاون کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او مشن نے لاڑکانہ، رتوڈیرو کا ایک ہفتے کے لیے دورہ کیا تھا اور ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹرز پر ٹیسٹنگ اور علاج اور فزیشنز کی تربیت پر توجہ مرکوز کی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ڈبلیو ایچ او کا ایچ آئی وی آؤٹ بریک کے حوالے سے تین مشنز کا اہتمام کرنے اور 600 ایچ آئی وی پوزیٹیو بچوں کو 3 ماہ کے لیے ضروری ادویات فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے یونیسیف، این اے سی پی، گلوبل فنڈ، یو این ایڈز، یو این ایف پی اے، یو ایس ایڈ، نئی زندگی ٹرسٹ، اے کے یو ایچ، سیوٹ، ڈی یو ایچ ایس اور اے پی ایل ایچ آئی وی کا بھی ان کی حکومت کے ساتھ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ لوگوں کے علاج کے حوالے سے تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ گلیڈ سائنسز کے نائب صدر کلفورڈ سمیوئل نے وزیر اعلیٰ سندھ کو اپنے ادارے کی جانب سے تعاون کی پیشکش کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے سیکریٹری صحت سعید اعوان کو ہدایت کی کہ وہ گلیڈ سائنسز کے وفد کے ساتھ اجلاس منعقد کریں اورجہاں ان کے تعاون کی ضرورت ہے اُس پر تبادلہ خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سروسز میں ڈوپلیکیشن نہیں چاہتے، مگر اس کی جہاں پر ضرورت ہو وہاں پر اس کی لازمی وضاحت ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں