26

ٹرمپ ملاقات سے پہلے مجھے بہت مفت مشورے ملے، عمران خان

واشنگٹن(فری ہینڈ نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کا تجربہ خوشگوار اور حیرت انگیز رہا، ملاقات سے پہلے مجھے بہت مفت مشورے دیئے گئے۔ واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرا مقابلہ کسی سیاسی پارٹی سے نہیں بلکہ مافیا سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کو مافیا جیسی سیاسی جماعتوں کا سامنا ہے، جو 30 سال سے نظام میں ہونے کی وجہ سے حکومتی ڈھانچے میں سرایت کرچکی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ان جماعتوں کو مافیا پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے، وہ ملک کو مستحکم کرنے کے لیے ادارے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان خطے میں سب سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا، 1970 کے عشرے میں پاکستان کے حالات بگڑنا شروع ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے ملک اپنی صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کرتے، حکمران اشرافیہ کی کرپشن ملکوں کے عوام کو غریب بناتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ملکوں کا مسئلہ حکمران اشرافیہ کا دولت بیرون ملک منتقل کرنا ہے، 10ماہ پہلے حکومت سنبھالی تو سب سے بڑا مسئلہ زبوں حالی کا شکار معیشت تھی۔ عمران خان نے کہا کہ 10 ماہ سے ملکی اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اس کام میں وقت لگے گا، پاکستان کو استحکام حاصل کرنے کے لئے امن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا غربت مکاؤ پروگرام شروع کیا ہے، اپوزیشن جسے سیاسی انتقام کہہ رہی ہے، میں اسے احتساب کہتا ہوں، کرمنل مافیا سے جو پیسہ نکلوائیں گے اسے غربت مکاؤ پروگرام میں ڈالیں گے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ علاقائی استحکام کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں، یہی بات ہمیشہ امریکیوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کا واقعہ ہوا تو میں نے جنگ میں شمولیت کی مخالفت کی، میں نے قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کی مخالفت کی تھی، ہمیں اس جنگ میں غیرجانبدار رہنا چاہیے تھا۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان اور امریکا کی سوچ ایک ہے، افغانستان میں امن کے لئے واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں روس سے جنگ کے بعد پاکستان کے حصے میں لاکھوں افغانی باشدے مہاجرین کی شکل میں آئے، متعدد جہادی گروپ بنے جن کا مقصد روس سے لڑائی تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان جہاد کے ختم ہوتے ہی امریکا افغانستان سے نکل گیا، پاکستان میں پہلی بار عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے امن کا فیصلہ کیا تو اس کے لئے فوج کی حمایت حاصل تھی، بھارتی پائلٹ کی رہائی کا فیصلہ کیا تو اسے بھی فوج کی حمایت حاصل تھی۔ وزیراعظم عمران خان 2009ء میں بھی انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب کرچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں