100

موبائل ٹیکس اور ٹیکس ہی ٹیکس۔۔۔۔۔۔۔۔(تحریر:محمد الیاس چوہان)

اٹلی(تحریر:محمد الیاس چوہان)پاکستان حکومت کی اور فیملی کی ریڑھ کی کہلوانے والے اوورسیز جنھوں نے پاکستان کی معیشت کو ہمیشہ تقویت دی اور اور ایک بہترین سہارہ بن کر پہیہ کا کردار ادا کیا ہمیشہ ہر آواز پر لبیک کہا مدرسہ، مسجد فنڈ سے لے کر کشکول توڑ تحریک فنڈ ملک بچاو ۔ قرض اتارو ۔زلزلہ فنڈ ۔ڈیم فنڈ ۔ فیملی فنڈ ۔ فنڈز ہی فنڈززززززززززز اور ٹیکس ہی ٹیکس فلاں ٹیکسززززززززاور اوپر سے ٹیکس جگا ٹیکس ۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسی مرغی ہے جسے ہر ایک نے بڑے ظلم کے ساتھ ذبح کیا ۔
اور ہر ظلم کیا
ان اوورسیز پر
رہتی سہتی کثر بیرون ملک سیاسی دوروں نے نکال دی کیا یہ واحد مظلوم اوور سیز ہی ہیں جنھوں نے سب کے ارمان پورے کرنے ہیں
وزاراء اور لیڈران مشیران بیورو کریسی ۔ بیرون ملک کے دورے اور ہر آنے والے کی نظر ان مظلوم اوور سیز کی جیب پر ہی ہوتی ہے
اور انکو لٹا جارہا ہے اب ایک اور گروپ بھی متحرک ہو گیا ہے پراپرٹی ڈیلر یا اس قسم کے دیگر برانڈز بیچنے والوں کا سب سے آسان شکار ہونے والے یہی مظلوم اوور سیز ہیں۔

مگر اس کے باوجود بھی

اوورسیز سو رہے ہیں اور بڑی خوشی سے آنکھیں بند کر کے یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں اور جو ان پر ظلم کر رہے ہیں یہ اوور سیز ان کو پھول پہنا رہے ہیں اور کے نعرے مار رہے ہیں۔
اور ان وزاراء سے ملنے کے بعد کئ کئ دن ہاتھ بھی نہیں دھوتے کہ ان ہاتھوں سے فلاں محترم وزیر سےسلام لیا ہوا ہے اور سیلفی فوٹو لے کر پھر کئ کئ سال روزانہ کی بنیاد پر اپنی پروفائل پر لگا کر فخر محسوس کرتے ہیں میری فلاں محترم سے ملاقات ہوئ ہے اور ان سے تعلقات جتانے میں کافی تگ و دو کرتے ہیں اور فخر محسوس کرتے اور نعرے پہ نعرہ لگا کر اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اللہ کرے ان اوور سیز کو سمجھ آجائے تو یہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں اپنے بچوں کو بہتر اور محفوظ مستقبل مہیا کر سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں