67

ہیپاٹائٹس وائرس، خطرے کی گھنٹی

ہیپاٹائٹس ڈے کے حوالے سے گزشتہ دو تین روز کے دوران منعقد ہونے والی ملک گیر صحت کانفرنسوں اور ایونٹس کے موقع پر انتہائی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جو عوام کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملک میں دو کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس مرض کےپھیلائو کو روکنے کے لئے مروجہ قوانین پر عمل پیرا ہیں۔ پنجاب بھر میں ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی او ر دیگر موذی امراض کے پھیلائو کی روک تھام کے لئے یکم اگست سے غیر رجسٹرڈ ہیئر ڈریسرز اور بیوٹی پارلرز کے خلاف کریک ڈائون شروع کرنے کا فیصلہ اگرچہ اپنی جگہ درست ہے، تاہم اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ پہلے سے رجسٹرڈ شدہ متذکرہ سیلون کہاں تک احتیاطی پروگرام پر عمل پیرا ہیں، نیز پنجاب کے علاوہ ملک کے دوسرے حصوں میں اس حوالے سے کہاں تک پیش رفت ہوئی ہے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں ہیئر ڈریسرز اور بیوٹی پارلرز کی رجسٹریشن اور لازمی لائسنسنگ کی مہلت31جولائی کو ختم ہورہی ہے جس کے بعد کارروائی کا آغاز کردیا جائے گا۔ طبی تحقیق کے مطابق استعمال شدہ بلیڈ، سرنج اور اسی نوعیت کی جملہ تیز دھار اشیا ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی کے پھیلائو کا باعث بن سکتی ہیں جبکہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے سختی سے ممانعت ہے۔ متذکرہ امراض زیادہ تر غریب آبادیوں میں پھیل رہے ہیں، اس کی بڑی وجہ عدم آگہی اور شعور کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں فٹ پاتھوں پر بیٹھے اتائی ڈاکٹر اور حکیم ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی ایڈز کے جراثیم کے پھیلائو کا باعث بن رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مقامی انتظامیہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے اور کسی بھی شخص کو عوام کی صحت سے کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔

بشکریہ:جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں