54

گورنرپنجاب کا نیا تعلیمی نظام لانے کا اعلان

لاہور(فری ہینڈ نیوز) گورنرپنجاب چوہدری سرور نے نیا تعلیمی نظام لانے کا اعلان کر دیا۔ چوہدی سرور نے لاہور میں منعقدہ تقریب میں مہمان ِخصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تعلیمی نظام میں بہتری کا بل لارہے ہیں، اس بل کے آنے کے بعد تعلیم کا ایک نظام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پرائیویٹ اسکولوں میں کچھ اور سرکاری اسکولوں میں کچھ اور پڑھایا جارہا ہے، وہ قوم ترقی کرتی ہے جہاں امیری غریبی کا فرق نہ ہو۔ چوہدری سرور نے کہا کہ پاکستان میں 20 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے، وہ بچے لوگوں کے گھر محنت کررہے ہیں، ہمیں ان بچوں کی تعلیم پر توجہ دینی ہے، ہماری یونیورسٹیاں ڈگریاں دے رہی ہیں مگر کامیاب ہونے کے بعد کوئی فائدہ نہیں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ میں نے 15 وائس چانسلر لگائے جو میرٹ پر تھے، تعلق کی بیس پر جو بھرتی کی جاتی ہے اس کا نقصان طلبا و طالبات کو ہوتا ہے، ہم نے طلبہ کو یہ بتانا ہے کہ جب ڈگری آئے تو چھوٹا کام نہ کریں اور نہ کرائیں۔ چوہدری سرور نے پاکستان کے نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہماری یوتھ میں ٹیلنٹ ہے،تقاریب میں جاتا ہوں تو دیکھتا ہو کہ کتنا ٹیلنٹ ہے، جن لوگوں کو یہ پتا چل جاتا ہے وہ اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں ایسی قوم کےنوجوان قابل ہو جاتے ہیں اور وہ ملک ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے بزنس سیکٹر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آ ئی ٹی کا نام آتا ہے تو میرے اوپر سے گزر جاتا ہے،کوئی بھی قوم بزنس پر توجے دیئے بغیر آگے نہیں بڑھتی ، پہلےجب میں گورنر تھا جی ایس ٹی پر توجہ دی، یورپ میں تھا تو بزنس کمیونٹی پر توجہ دیتا تھا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ میں پاکستان کی سیاست میں نہ آتا تو ریٹائرمنٹ کے بعد ارادہ تھا کہ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بناتا۔ چوہدری سرور نے دہشتگردی سے متعلق بات کرتے ہوئے آر ایس ایس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ افواج پاکستان نے اور خفیہ اداروں نے مکمل طور پر دہشت گری کی کمر توڑی ہے، اے پی ایس کے واقع کے بعد ملک و قوم اور اداروں نے فیصلہ کیا اور دہشت گردی کا ڈٹ کے مقابلہ کیا۔ چوہدری سرور نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان برداشت کیا ہے، پاکستان میں مساجد ، گرجاگھروں ، اور دیگر عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کو بلین ڈالرز کا نقصان ہوا ہے، دہشت گردی میں ہماری بہت جانیں گئیں جس میں افواج، پولیس اور پاکستان کے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے کشمیر کی حالیہ صوتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے ساتھ حالات بہت خراب ہیں ،کشمیر میں طلم کی داستان لکھی جارہی ہے، مودی نے جنگی جارحیت کی تو پاکستانی قوم نمٹنا جانتی ہے، پلوامہ کے معاملے پر مودی نے کہا میں پاکستان میں جاکر حملہ کروں گا۔ چوہدری سرور نے کہا کہ دو نیو کلیئر پاور کے درمیان لڑائی خطرناک ہوگی، وزیراعظم نے حلف اٹھانے کے بعد پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات کی بات کی تھی، مگر نریندر مودی نے امن کے لیے پاکستان کی پیشکش کو سنجیدہ نہیں لیا۔ چوہدری سرور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے اور بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے جبکہ برطانیہ کی لیبرپارٹی نے بھی بھارتی اقدام کی مذمت کی ہے، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی قانونی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ عقل کے اندھے ہیں جو کہتے ہیں پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن ہو، افغانستان میں امن سے ہمیں سب سے زیادہ فائدہ ہے، اگر افغانستان بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو ،پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ چوہدری سرور نے مزید کہاکہ امریکا میں ہر پلیٹ فارم پر میری بات ہوئی میں نے امریکا کو باور کروایاکہ آپ دہشت گردی کو افغانستان میں ختم نہیں کرسکے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ادارے بھارت کو سمجھائیں کہ وہ یہ اقدام واپس لیں، طاقت کے زور پرلوگوں کے جذبات ختم کر کے امن نہیں لایا جا سکتا ، کشمیر کا کیس بین الاقوامی برادری کے سامنے لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، آرٹیکل 370 اے اقوامِ متحدہ کے بنائے ہوئے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے، بھارتی اقدام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ عالمی برادری جان لے امن انصاف کے بغیرممکن نہیں ، ممکن نہیں کہ فلسطین،کشمیر اور دیگر علاقے لہولہان ہوں اور امن بھی ہو جائے۔ چوہدری سرور نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اپنی اپوزیشن جماعتیں بھی اس فیصلے کے خلاف ہیں، نریندر مودی نے گجرات میں مسلمانوں کی قتلِ عام کی تاریخ کو کشمیر میں دہرایا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو شیڈو حکومت بنانی چاہیے، اپوزیشن جب حکومت میں نہیں ہوتی تو وہ شیڈو حکومت بنا کر آئندہ کی تیاری کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں