47

مسلم خواتین کا مذاق اڑانے پر بورس جانسن معافی مانگیں: سکھ رکنِ برطانوی پارلیمنٹ

برطانیہ(فری ہینڈ نیوز) برطانوی لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ تن من جیت سنگھ ڈیسی نے مسلمان خواتین سے متعلق متعصبانہ بیان پر برطانوی وزیرِ اعظم بورس جونسن کو کھری کھری سنا دیں اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ تن من جیت سنگھ ڈیسی نے کہا کہ کوئی پگڑی پہنے یا ٹوپی، صلیب، حجاب یا برقع، کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ ان کا تمسخر اڑائے۔ انہوں نے کہا کہ جنابِ اسپیکر! اگر میں پگڑی پہنتا ہوں، یا آپ صلیب پہنتے ہیں، یہ صاحب ٹوپی پہنتے ہیں، یا یہ خاتون برقع یا حجاب پہنتی ہیں، تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اس پارلیمان کے معزز اراکین کو اس بات کی کھلی چھٹی مل گئی ہے کہ وہ ان کے حلیے پر ہتک آمیز جملے کسیں اور ان کا تمسخر اڑائیں، ان کی تذلیل کریں۔ تن من جیت سنگھ ڈیسی نے کہا کہ ہم میں سے وہ جنہیں بچپن سے ’تولیے کے سر والا‘ یا ’طالبان‘ یا ’دقیانوسی پس منظر سے تعلق رکھنے والا‘ جیسے القابات برداشت کرنا پڑے ہیں، وہ ان مسلمان خواتین کا درد بہت شدت سے محسوس کر سکتے ہیں جن کے حلیے کا ہمارے وزیر اعظم بورس جانسن ’لیٹر باکس‘ اور ’بینک ڈکیت‘ کہہ کر تمسخر اڑاتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد تحقیقات کے ڈھونگ کے پیچھے چھپنے کے بجائے وزیرِ اعظم بتائیں کہ آخر کب وہ ان توہین آمیز اور نسل پرستانہ ریمارکس پر معافی مانگیں گے؟ سکھ رکن برطانوی پارلیمنٹ نے کہا کہ جنابِ اسپیکر! ان ہی نسل پرستانہ بیانات کی وجہ سے برطانیہ میں نفرت انگیز جرائم میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم یہ بھی بتائیں کہ آخر وہ کب کنزرویٹو پارٹی کے اندر موجود اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رجحانات کی تحقیقات کرائیں گے؟ جس کا انہوں نے اور ان کے چانسلر نے سب کے سامنے ٹی وی پر عوام سے وعدہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ 2018ء میں بورس جونسن نے برقع پہننے والی مسلمان خواتین کو لیٹر باکسز اور بینک ڈکیتوں سے تشبیہ دے کر ان کا مذاق اڑایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں