37

مقبوضہ کشمیر میں جبر کیخلاف بھارت کے اندر سے آوازیں

انڈیا(فری ہینڈ نیوز) مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر کے خلاف بھارت کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں مضبوط ہونے لگيں، ریاست کرناٹکا کے علاقے ڈکشنا کناڈا کے ڈپٹی کمشنر ساسی کانتھ احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔ بھارتی اخبار کے مطابق ایک خط میں ساسی کانتھ کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی عمارت کے بنیادی ستونوں پر سمجھوتہ کیاجارہا ہے، موجودہ حالات میں آئی اے ایس افسر کے طور پر کام جاری رکھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دن بھارتی سماج کے لیے مزید مشکل ہوں گے، انڈین سول سروس اب ماضی کی طرح کام نہیں کر رہی ہے۔ اس سے پہلے ریاست کیرالا کے آئی ایس افسر گوپی ناتھن نے بھی عہدے سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔ مودی حکومت کے کشمیر میں غیر آئینی اقدامات پر استعفٰی دینے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس افسر گوپی ناتھن کا کہنا تھا کہ کسی بھی جمہوریت میں عوام سےاحتجاج کا حق نہیں چھینا جاسکتا۔ انہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر لگائی گئی اظہار رائے کی پابندی قبول نہیں ہے۔ ایک انٹرویو میں گوپی ناتھن نے کہا کہ اگر ادارے تباہ ہونے لگیں توکسی نہ کسی کو آواز اٹھانی ہوتی ہے، جمہوریت میں آزادی اظہار کے بغیر زندگی کا کوئی مطلب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ تشدد کے نام پر آزادی اظہار پر لگائی گئی، پابندی کل بھارت کے کسی بھی حصے میں لگائی جاسکتی ہے۔ گوپی ناتھن نے سوال اُٹھایا کہ اگر کل دہلی میں شہریوں کو حاصل حقوق سلب کرلیے جائیں تو کیا ہوگا؟ عوام چاہےخوش ہوں یا ناراض اظہار رائے کی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی۔ گوپی ناتھن کا کہنا تھا کہ انسانی جانیں بچانےکے نام پر لگائی گئی پابندیاں محض فریب ہیں، کیا کسی کو یہ کہہ کر جیل میں بند کیا جاسکتا ہے کہ یہ اس کی جان بچانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں