18

ناروے:مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت میں تیسرا جلوس

ناروے(فری ہینڈ نیوز) ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت میں شہر کے مرکزی علاقے میں ایک بڑا جلوس نکالا گیا۔ جلوس جمعے کی شام دارالحکومت کے مشہور علاقے گرون لینڈ سے شروع ہوا اور مرکزی ریلوے اسٹیشن سے گزرتا ہوا مین اسٹریٹ کارل جوان گاتا کے راستے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ کر مظاہرے کی شکل اختیار کر گیا۔ گزشتہ 4 ہفتوں کے دوران اوسلو میں کشمیریوں کی حمایت میں یہ تیسرا بڑا اجتماع تھا۔ ریلی میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں، کشمیریوں اور کشمیریوں سے ہمدردی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ جلوس کے شرکاء سارے راستے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں اور مودی حکومت کے ظالمانہ رویے کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ جلوس کا اہتمام کشمیر اسکینڈے نیوین کونسل ناروے، سماجی شخصیت محسن راجہ کی تنظیم نارویجن پاکستانی سوشل نیٹ ورک اور دیگر سماجی، سیاسی، مذہبی شخصیات اور تنظیموں نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ جلوس کے شرکاء نے مختلف نعروں پر مشتمل کتبے، بینزر اور کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے، انہوں نے بھارت کی ظالمانہ روش کے خلاف نعرے لگائے، ان نعروں میں ’’لے کر رہیں گے آزادی، مقبوضہ کشمیر کے عوام کا محاصرہ ختم کرو، کشمیریوں پر ظلم بند کرو، کشمیر کو آزاد کرو، شیم شیم مودی شیم شیم‘‘ شامل تھے۔ مظاہرین نے بھارت پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں 5 ہفتوں سے جاری کرفیو ختم کیا جائے اور وہاں کے عوام کو آزاد فضاء میں جینے کا حق دیا جائے، بھارت اپنی فوجیں جموں و کشمیر سے واپس بلائے اور کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق، اقوام متحدہ کی نگرانی میں فیصلے کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر اسکینڈے نیوین کونسل کے سربراہ سردار علی شاہنواز خان نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی محاصرے میں غذائی قلت کا شکار ہو رہے ہیں، انہیں ضروری ادویات بھی میسر نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ناروے کی موجودہ حکومت کو چاہیے کہ بھارتی فوج کے زیرِ محاصرہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق میں فوری طور پر اپنا مؤقف واضح کرے۔ سردار علی شاہنواز خان نے یہ بھی کہا کہ نارویجن پارلیمنٹ میں گزشتہ 20 سال کے دوران کئی بار مسئلہ کشمیر پر بحث ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں ناروے کی کرسچن ڈیموکریٹ پارٹی نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیرِ اطلاعات قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے بھارتی فوج کے محاصرے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام انتہائی سخت مشکلات کا شکار ہیں، ناروے نوبل انعام دینے والا امن پسند ملک ہے اور ہمیں امید ہے کہ ناروے کشمیریوں پر مظالم رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ اوسلو شہر کی میئر شپ کے لیے پاکستانی نژاد امیدوار سائیدہ روشنی بیگم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق کی پامالی بند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ناروے کے پاکستان اور بھارت دونوں سے اچھے تعلقات ہیں لہٰذا ناروے دونوں ملکوں کے مابین مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کرا سکتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، بھارت نے 7 دہائیوں سے اس کے بڑے حصے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اب مودی حکومت نے اپنے ملک کے آئین کی دو شقوں کو ختم کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی ہے اور اس علاقے کو بھارت میں شامل کر لیا ہے، خطۂ کشمیر ہرگز بھارت کا حصہ نہیں اور بھارت نے اس علاقے پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ مقررین نے عالمی برادری اور خاص طور پر بڑی طاقتوں امریکا اور یورپ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ وادی سے کرفیو ختم کروائیں، کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوانے میں ان کی مدد کریں اور بھارت پر زور دیں کہ وہ اپنی فوجیں مقبوضہ کشمیر سے واپس بلا کر کشمیریوں پر مظالم بند کرے۔ ناروے میں پاکستانیوں کی متحرک سماجی و ثقافتی تنظیم پاکستان یونین ناروے کے چیئرمین قمر اقبال نے بتایاکہ ایک ماہ کے دوران کشمیریوں کی حمایت میں تیسرا بڑا جلوس اس بات کا ثبوت ہے کہ ناروے میں رہنے والے پاکستانیوں میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حوالے سے بہت زیادہ احساس پایا جاتا ہے، ہمیں مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر سخت تشویش ہے۔ دوسری طرف گزشتہ روز اوسلو میں سفارتخانۂ پاکستان میں یومِ دفاع کے موقع پر تقریب کے دوران بھی کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ تقریب کے شرکاء نے کشمیریوں کے حق میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیرِ پاکستان ظہیر پرویز خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال دنیا کی توجہ کی طالب ہے، مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے اور بھارتی حکومت کشمیریوں سے غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں