56

گجرات، کانسٹیبل کی سرکاری اسلحہ سے خودکشی

گجرات(فری ہینڈ نیوز)گجرات میں تھانہ سول لائن کے کانسٹیبل نے تھانہ میں خو دکو گولی مار کر خودکشی کر لی امیر حمزہ جو کہ گاؤں چک بھولا کا رہائشی تھا اور 2018میں محکمہ پولیس میں بھرتی ہو اتھا,نے گھریلو پریشانی پر شام کے وقت تھانہ میں خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔امیر حمزہ نے خودکشی کرنے سے پہلے اپنی والد کوفون کرکے کہاکہ میں اپنی زندگی سے تنگ آیاگیاہوں اورمیں خود کوگولی مارنے لگاہوں فون کال کے دوران ہی خود کوگولی مارلی اوروالدہ حمزہ حمزہ۔۔۔کرتی رہ گئی۔لیکن حمزہ اس دنیاسے چلاگیا۔ گھریلو پریشانی پر کانسٹیبل نے خودکشی کی۔کانسٹیبل امیرحمزہ کی اپنے والدین کے ساتھ ضدلگی ہوئی تھی کے میں نے پولیس کی نوکری نہیں کرنی مجھے باہرکے ملک بھیجے چند روز پہلے امیر حمزہ نے اپنا پاسپورٹ بنوانے کیلئے فیس بھی جمع کروا رکھی تھی۔ والد نے کہاکہ تم نے پولیس کی ہی نوکری کرنی ہے۔ تم مجھے پولیس کے یونیفارم میں اچھے لگتے ہو۔کچھ لوگ اس خود کشی کوغلط رنگ دے کرپولیس کی ساکھ کونقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور غلط خبریں لگاپولیس کے خلاف غلط تاثر پیداکررہے ہیں۔ا میر حمزہ کی تھانہ میں کسی افسر،محرریاکسی ملازم کے ساتھ کسی قسم کی کبھی بھی تو تکرار نہیں ہوئی۔،ڈی پی او گجرات سید توصیف حیدر نے تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی۔ڈی پی او گجرات سید توصیف حیدر نے واقعہ کی تحقیقات اور اصل حقائق سامنے لانے کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن غلام مصطفٰی گیلانی،ڈی ایس پی رضا حسنین اعوان اور ایس ایچ او تھانہ سول لائن انسپکٹر عبید اللہ خاں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے کر انھیں ہدایت کی کہ واقعہ کی تمام پہلوؤں پر تفتیش کر کے خود کشی کے اصل حقائق کو سامنے لایا جائے اور وقوعہ کی بابت مکمل رپورٹ 24گھنٹے کے اندر دی جائے۔والدین کوچاہیے کہ اپنی اولادوں کوایسی نوکریاں کروائے جس کے وہ خواہش مند ہوں جونوکری وہ نہیں کرنا چاہتے۔ایسی نوکری پربچوں کومجبورنہ کریں ورنہ انجام یہی ہوگا.محکمہ پولیس کے مطابق خود کشی کی وجہ کیا بنی ذہنی دباؤ، مسلسل ڈیوٹی یا گھریلو جھگڑا ، معلوم کرنے کے لیے ابھی فرانزک کروایا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں