43

جرمنی: عشرت معین کے شعری مجموعے کی تقریب اجراء

جرمنی(فری ہینڈ نیوز) اردو انجمن برلن جرمنی کے زیر اہتمام عشرت معین سیما کے دوسرے شعری مجموعے ’آئینہ مشکل میں ہے‘ کی تقریب رونمائی کا انعقاد جرمن شہر پوٹسڈام میں کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت اردو انجمن کے بانی عارف نقوی نے کی جبکہ اس محفل کے مہمانِ خصوصی برطانیہ سے تشریف لائے ہوئے معروف صدا کار، ادیب و شاعر جناب عابد علی بیگ تھے، جن کے دست مبارک سے اس کتاب کا جرمنی میں باقائدہ اجراء عمل میں آیا۔ جرمنی میں اردو ادب سے منسلک شخصیات میں ایک قدآور نام عشرت معین سیما کا ہے۔ آپ کی پانچویں کتاب اور دوسرے شعری مجموعے کی تقریبِ رونمائی کے لیے ہندوستان کے شہر کلکتہ سے ڈاکٹر محمد زاہد نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ برطانیہ ہی سے اسلام ٹی وی کی بزم سخن کے معروف شاعر و صحافی جناب سہیل ضرار نے اپنی شرکت سے اس محفل کا وقار بڑھایا۔ تقریب اجراء کی نظامت کرتے ہوئے اردو انجمن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر نے شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ اردو انجمن برلن کے صدر جناب عارف نقوی صاحب نے’ آئینہ مشکل میں ہے‘ پر اپنا تبصرہ پیش کیا اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ عشرت معین سیما اردو انجمن کی دیرینہ اور پر فعال رکن ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ادبی و شعری تخلیقات کے لیے اردو و ہندی ادبی حلقے میں ایک ممتاز پہچان رکھتی ہیں ۔ انہوں عشرت معین سیما کو عہد حاضر کی ترقی پسند شاعرہ گردانتے ہوئے ان کی شعری تخلیقات پر سیر حاصل تبصرہ کیا اور چند اشعار پیش کیے۔ بعد ازاں جناب عابد علی بیگ نے عشرت معین سیما کے اشعار کو اردو تانیثی شاعری کے حلقے میں ایک اہم اضافہ قرار دیا اور اپنا بہترین مضمون اس کتاب کے حوالے سے پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے اپنی خوبصورت آواز میں عشرت معین سیما کی غزل کے اشعار پیش کیے۔

ایک چہرے پر ہے چہرا، آئینہ مشکل میں ہے

گمشدہ ہے عکس میرا، آئینہ مشکل میں ہے،

عشرت معین سیما
مہمانوں کی تالیوں کی گونج اور مبارکباد ان یادگار لمحات کو چار چاند لگا گئی۔ بعد ازاں عشرت معین سیما نے اپنی کتاب سے غزل کے اشعار کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورت نظمیں حاضرین کے سامنے پیش کیں اور خوب داد سمیٹی۔

برسوں سے اک سوچ میں گم ہوں

سمجھ رہی تھی میں ہی “ تم “ ہو

عشرت معین سیما
مہمان شعراء کے ساتھ ایک یادگار شعری نشست بھی منعقد کی گئی، جس میں جرمنی و برطانیہ کے شعراء اور ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے مہمان جناب ڈاکٹر محمد زاہد نے اپنا کلام پیش کیا۔ جن شعراء نے اس شعری نشست میں اپنا کلام پیش کیا ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ کاشف کاظمی ، عامر عزیز، سرور غزالی، عشرت معین سیما، عارف نقوی، انور ظہیر (برلن) مایا حیدر (نیو روپین) سہیل ضرار، عابد علی بیگ( لندن) ڈاکٹر محمد زاہد ( کلکتہ)۔

اُردو مری زبان ہے کمتر نہیں کوئی

ُلفت کی ترجمان ہے ہمسر نہیں کوئی

منجدھار میں ہےناؤ تو پتوار ہاتھ میں

میرا خدا ہے ساتھ مجھے ڈر نہیں کوئی

عارف نقوی
تمام شعراء کو حاضرین نے بہت دلچسپی کے ساتھ سنا اور دل کھول کر داد دی۔ خاص طور پر مہمانِ خصوصی کی تحت اور ترنم میں پیش کی گئی سنجیدہ اور مزاحیہ شاعری اور تظمین کو حاضرین بہت سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں