29

سارے پنجاب کا بجٹ وزیر اعلی پنجاب نے اپنے آبائی علاقے میں لگا دیا،(تحریر:محمد الیاس چوہان)

اٹلی(تحریر:محمد الیاس چوہان)سارے پنجاب کا بجٹ وزیر اعلی پنجاب نے اپنے آبائی علاقے میں لگا دیا اور سارے پنجاب کو محروم کر دیا اور اندھیرے میں اور پسماندگی میں دھکیل کر ڈبو دیا۔
مگر سارے خاموش ہیں۔
کیا محترم عثمان بزدار صرف تونسہ شریف اور ڈیرہ غازی خان کا وزیر اعلی ہے جس نے پنجاب کا سارا بجٹ اپنے ضلع اور شہر تونسہ میں لگا دیا ۔ کل ترقیاتی بجٹ 36 فی صد ہے اس کا 35 فیصد صرف ڈیرہ غازی خاں اور تونسہ شریف میں لگا دیا یا منصوبوں کی منظوری دے دی باقی سارے پنجاب کو اندھیرے میں ڈبو دیا ہر کام ٹھپ اور کوئ صحت صفائی بجلی پانی گیس تعلیم اوربنیادی سہولیات نہ دے سکا اور نہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے خصوصی طور پر گجرات کو ہمیشہ پس پشت ڈالا گیا انتقامی طور پر میاں نواز شریف کے دور میں بھی اور اس تونسہ شریف کے محترم وزیراعلی پنجاب کے دور میں بھی آواز کو دبانے کا ہر وہ طریقہ استعمال کیا جارہا ہے کہ غریب کی آواز کو بڑی بڑی سلاخوں اور دیواروں کے پیچھے دبا دیا گیا ہے اور سارے پنجاب کے حقوق اور روشنیاں اور ترقی بجٹ تونسہ شریف آبائی شہر میں لگ رہا ہے جیسا کہ سابقہ دور میں سارا پنجاب بس لاہور ہی تھا ان کی نظروں میں ۔
بحیثیت پاکستان کا شہری
مجھے اپنے حقوق اور دیگر انسانی زندگی کی روزہ مرہ کی ضروریات کی ڈیمانڈ کرنے کا میرا حق ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ ہر شہری کی بنیادی جائز ضروریات اور حقوق کا خیال رکھنا اور مساوی حقوق کے ذریعہ سے پورا کرنا مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہورہا ۔
اس کا احتساب کون کرے گا؟
یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔

جس کی لاٹھی اسکی بھینس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں