27

پاکستان نے سدھو کو ویزا جاری کردیا، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد(فری ہینڈ‌نیوز) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ کرتار پور راہداری پر کوئی منفی سوچ نہیں، یاتریوں کے پاسپورٹ کی چھوٹ میں ایک سال تک اضافہ ہوسکتا ہے، حکومت نے نوجوت سنگھ سدھو کو ویزا بھی جاری کردیا۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری سے آنے والے یاتریوں سے 20 ڈالر فیس لی جائے گی جس میں افتتاح کے 2 روز بعد یعنی 9 اور 10 نومبر تک کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیر سگالی کے جذبے کے طور پر پیکیج میں شامل 10 روز کی پیشگی اطلاع کی لازمی شرط کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے تصدیق کی کہ بھارتی سیاست دان اور سابق ٹیسٹ کرکٹ نوجوت سنگھ سدھو کو بابا گرونانک کے دربار کی زیارت کے لیے پاکستانی حکومت نے ویزا بھی جاری کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس مرتبہ دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے کی امیدیں ہیں۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ موجودہ حکومت کو مذہبی سیاحت کے فروغ میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں موجود ہندو اور بدمت مذہب کے مقدس مقامات کی فروغ بھی حکومت کے زیر غور ہے کیونکہ یہ سرزمین بھی صدیوں سے قدیم تہذیب کا گہوارہ رہی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کرتار پور راہداری پر پاکستانی کی کوششوں کو خالصتان تحریک قرار دینے کے پروپگینڈا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری پالیسی میں منفی سوچ شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرتار پور راہداری وزیراعظم عمران خان کا اقدام ہے جس کی پیروی بھارت نے بڑی ہچکچاہت کے بعد کی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان ایسی ہی راہداری کارگل اور لداخ کے لیے بھی کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے جس پر ترجمان دفتر خارجہ نے جواب دیا کہ پاکستان کو مزید راہداریاں کھولنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے مختلف امور پر بات چیت میں ہچکچاہٹ بڑا مسئلہ پیدا کر رہی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کے ممکنہ دورہ پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ جلد ہوگا جس کی تاریخوں کا تعین کیا جارہا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے نئے نقشوں پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں سے واضح ہے جس کے مطابق جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے کی حتمی قرارداد صرف وادی میں آزاد اور منصفانہ رائے شماری کے انعقاد کے ساتھ ہی ختم ہوگی۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی حالیہ ’ٹیررازم 2018‘ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی دہشت گرد گروہ کی ملک میں موجودگی کے الزام کو مسترد کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں