24

شہباز کے اثاثے 70 فیصد، بیٹوں کے اثاثوں میں ہوشربا اضافہ ہوا، شہزاد اکبر

اسلام آباد(فری ہینڈ نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ 10 سال میں شہباز شریف کے اثاثوں میں 70فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ان کے بیٹوں کے اثاثوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہاکہ آج ہم نیٹ ورک بے نقاب کرنے جا رہے ہیں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ شریف خاندان نے اربوں کی کرپشن کی، ان کے بیٹوں حمزہ اور سلمان کے اثاثوں میں بھی ہوشربااضافہ ہوا ، اب سلمان شہباز کے اثاثوں کی ضبطگی شروع ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیب نے نومبر 2018 میں کچھ تحقیقات کا آغازکیا تھا، شہباز شریف کے دھیلے کی کرپشن کی داستان اربوں میں ہے، شریف خاندان نے اربوں کی کرپشن کی ہے ، جعلی ٹی ٹیزکےذریعے پیسہ باہربھیجا گیا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ 2015ء میں بنائی گئی کمپنی نے 2سال میں 7 ارب کا کاروبار کر ڈالا،سیاسی مشیران کےنام پرکمپنی بنائی گئی،پیسوں کو مختلف اکاؤنٹس میں گھمایا جاتا، پھر کیشن نکلوایا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پورا نیٹ ورک سی ایم سیکریٹیریٹ سے چلایا جاتا تھا، کچھ کردار سامنے آگئے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے توسط سے کچھ سوالات شہبازشریف سے کرنا چاہتا ہوں۔ شہزاد اکبر کے شہباز شریف سے سوالات شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف سے اٹھارہ سوال کیے : سوال نمبر 1: کیا نثار احمد گل وزیر اعلیٰ کے ڈائریکٹر برائے سیاسی امور اور علی مہر ڈائریکٹر اسٹریٹجی اور پالیسی کے عہدوں پر تعینات نہیں تھے؟ سوال نمبر 2: کیا نثار احمد گل اور علی احمد آپ کے فرنٹ مین نہیں تھے؟ سوال نمبر 3: کیا یہ دونوں افراد کاغذی کمپنی گڈ نیچر کے مالک نہیں تھے؟ سوال نمبر 4: کیا نثارگل نے بینک کے اوپننگ فارم میں اپنا عہدہ، مشیر برائے سیاسی امور وزیراعلیٰ اور پتہ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ نہیں لکھوایا تھا؟ سوال نمبر 5: کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ کا ڈائریکٹر سیاسی امور نثار احمد گِل آپ کے ہونہار صاحبزادے سلمان شہباز شریف کے ساتھ مختلف دوروں پر لندن، دبئی اور قطر نہیں گیا؟ سوال نمبر 6: کیا آپ کے کیش بوائیز مسرور انور اور شعیب قمر نے جی این سی کے اکاؤنٹوں سے کروڑوں روپے نکال کر آپ کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کیے؟ سوال نمبر 7: کیا آپ نے ان پیسوں سے تہمینہ درانی شریف کے لیے وسپرنگ پوائنٹ کے دو ولاز نہیں خریدے تھے؟ سوال نمبر 8: کیا آپ کے کیش بوائیز مسرور انور اور شعیب قمر نے جی ایل سی کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکال کے آپ کے دونوں صاحبزادوں حمزہ اور سلمان کے اکاؤنٹس میں منتقل نہیں کیے تھے؟ سوال نمبر 9: کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ نثار احمد گِل جو کہ وزیراعلیٰ کے پولیٹیکل ڈائریکٹر تھے، ان کے اکاؤنٹ سے آپ کو اور آپ کے دونوں بیٹوں کو یہ رقم منتقل نہیں کی گئی تھی؟ سوال نمبر 10: کیا جی ایل سی سے اربوں روپے کیش کی صورت میں نکال کر آپ اور آپ کے خاندان کے لیے اندرون اور بیرون ملک اخراجات میں استعمال نہیں کیا جاتا تھا؟ سوال نمبر 11: یا جی ایل سی نے بالواسطہ آپ کے چپڑاسی ملک مقصود کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے جمع نہیں کروائے تھے؟ سوال نمبر 12: کیا جی ایل سی کے مالکان کو وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعینات کر کے آپ براہ راست کالا دھن کو سفید کرنے کے اس گھناؤنے کاروبار میں سی ایم آفس سے سرپرستی نہیں کرتے تھے؟ سوال نمبر 13: کیا آپ کی رہائشگاہ 96 ایچ ماڈل ٹاؤن میں کک بیک اور کمیشن کی رقم وصول نہیں ہوتی رہی؟ اور کیا ان رقوم کو شریف گروپ کے دفتر واقع 55 کے ماڈل ٹاؤن میں منتقل کرنے کے لیے آپ کی ذاتی بلٹ پروف لینڈ کروزر اور ایلیٹ فورس پنجاب کے اہلکار استعمال نہیں ہوتے رہے؟ سوال نمبر 14: کیا 96 ایچ میں واقع کالے دھن کو استعمال کرتے ہوئے آپ کے پورے خاندان والوں نے اپنے اکاؤنٹ، اپنے ذاتی دوستوں کے اکاؤنٹس میں لاہور کے مختلف منی چینجرز کے ذریعے جعلی ٹی ٹیز نہیں لگوائیں؟ سوال نمبر 15: کیا ان ٹی ٹیز کی رقوم آپ نے اپنی ذاتی رہائشگاہ 96 ایچ لاہور کی تعمیر میں خرچ نہیں کی؟ سولہویں سوال سے قبل شہزاد اکبر نے کہا کہ میں اس سوال سے قبل توجہ چاہتا ہوں کیونکہ اس میں میثاق جمہوریت کا بھی ذکر ہے۔ سوال نمبر 16: کیا دبئی کی 4 کمپنیاں جو بیگم نصرت اور سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں بذریعہ ٹی ٹیز رقوم منتقل کرتی رہیں، کیا یہ وہی کمپنیاں نہیں ہیں جو آصف زرداری اور اومنی گروپ کے لیے بھی منی لانڈرنگ کرتی رہیں؟ سوال نمبر 17: کیا دیفڈ کے دیئے ہوئے پیسے سے آپ کے داماد علی عمران نے لوٹ مار نہیں کی؟ سوال نمبر 18: کیا آپ ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان کی عزت بحال کرنے کے لیے آپ کب لندن کی عدالتوں میں ڈیلی میل کے صحافی، میرے دوست اور میرے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کریں گے؟ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ منظور پاپڑ والا اور دوسرے لوگ سامنے آچکے ہیں، ٹی ٹیز کی رقم سے 32 ، 33 کمپنیاں بنائی گئیں، جس سے کاروبار کی ایمپائرکھڑی کی گئی ، یہ جو کاروبار شروع کیا گیا یہ شریف خاندان کےکاروبار سے الگ ہے، یہ کاروبار 200 سے زیادہ ٹی ٹیز کی رقم سے شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلی میل کے خلاف شہبازشریف نے مقدمہ تو درکنار ایک بھی جواب نہیں دیا ، ان کا داماد اشتہاری ہے، ان لوگوں نے کمپنیوں بارے جعلی کاغذات پیش کیے، معصوم لوگوں کا نام استعمال کر کے ٹی ٹیز اکاؤنٹس میں ڈالی گئیں۔ معاون خصوصی نے شہبازشریف کو پیشکش کی کہ برطانوی عدالت جانے کیلئے میں آپ کو مالی معاونت دینے کو تیار ہوں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف کی پریس کانفرنس ٹُھس تھی، انہوں نے بڑے دعوے کیے کہ ڈیلی میل کے خلاف عدالت جائیں گے، مگر انہوں نے مقدمہ تو دور جواب ہی نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلمان شہباز بھگوڑا ہے اور اس کی جائیداد ضبطگی شروع ہو چکی ہے، آنے والے دنوں میں مختلف کمپنیوں کی کارستانیاں سناؤں گا، کاغذی کمپنیوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی سب کچھ ڈکلیئرڈ ہے۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ جی ایم سی کمپنی کے 3 ملازمین ہیں جن کا نام آ رہا ہے، مہر نثار گل سی ایم ہاؤس میں ڈائریکٹر پولیٹیکل افیئرز تھا،ایک اور ملازم بھی سیاسی مشیر کے طور پر تعینات تھا۔ انہوں نے کہا کہ نثار گل نیب کی حراست میں ہے جس نے اعتراف کیا کہ یہ کاغذی کمپنی ہے،اس کمپنی نے 7 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی، کمپنی کے 2 کیش بوائز ٹریس ہوئے جنہوں نے 2 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کی اور یہ دونوں کیش بوائز بھی زیر حراست ہیں جنہوں نے ساری تفصیلات بتائیں۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ جعلی کمپنیز کی طرح سیلز بھی جعلی تھیں، ثابت ہو گیا کہ اس نیٹ ورک کا کنٹرول روم سی ایم ہاؤس پنجاب تھا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ قانونی طریقے سےپیسے واپس آئے ہیں، برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے شکر گزار ہیں۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہمارا پیسہ واپس کریں ہمیں کسی کو جیلوں میں رکھنے کا شوق نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں