69

چادر اور چاردیواری کا تقدس اور آج کا ایڈوانس تعلیم یافتہ کہلوانے والا..(تحریر:محمد الیاس چوہان)

اٹلی(تحریر:محمد الیاس چوہان)فیس بک پر اخلاقیات کا جنازہ نکلتے دیکھا ہم سب نے اور ہمیشہ کی طرح اپنےآپکو تعلیم یافتہ کہلوانے والوں نے اخلاقیات کہ دھجیاں اڑائیں بعض کمنٹ یا غیر اخلاقی زبان قارئین کو پڑھتے شرم آتی ہے مگر لکھنے والا اپنے آپ کو تعلیم یافتہ کہلوانے والا بڑی ڈھٹائ سے لکھتا ہے اور لکھ رہا،ہے کاش ہم ان سے سیکھ لیتے جن کو ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے جاہل کہتے ہیں جس میں ہم اکثر کے ماں باپ ہیں بھی شامل ہیں کہ جنھوں نےکم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنے آپکی اعلی اخلاق کی مثالیں قائم کردی ہیں اور حسن سلوک کے اعلی پیکر بنے کسی کی عزت اچھالنے کی بجائے عزتوں کے محافظ بنے دشمن کی بیٹی کی عزت کو بھی اپنی عزت سمجھا کیونکہ وہ کم تعلیم یافتہ جاہل تھے اور انکےاصول اور ان کا کہنا تھا ک عزتیں سب کی ساجھی ہوتیں ہیں اور جنگ ہمیشہ اصولوں کی ہوتی ہے نہ کہ گھر کی عزتوں پر حملہ کر کے ان کم پڑھے لکھے جن کو ہم جاہل کہتے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے بڑے بدبخت ہیں وہ لوگ جو آپس کی لڑائی میں مقابل کے گھر کی عزت کی عزت اورحفاظت نہیں کرتے اپنی ماووں جیسی سوچ اور نگاہ اور دل و دماغ سے دشمن کے گھربھی عزت ہونی چاہئے ہا ں بات سوچ سمجھ اور وراثتی تربیت اور جسم و خون میں اس رزق کی بھی ہےجس سے اور جہاں اس کی تربیت کی گئی ہو،اللہ مجھے اور سب کو ہر عزت کا محافظ بننے کی توفیق دے نہ کی عزتیں اچھالنے کی تاکہ چادر اور چاردیواری کا تقدس بحال رہ سکے، بات ہے سمجھ کی،
شائد کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں