27

سی ای او PIA کی کام جاری رکھنے کی استدعا مسترد

اسلام آباد(فری ہینڈ نیوز)سپریم کورٹ نے پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے سی ای او ارشد محمود ملک کی کام جاری رکھنے کی استدعا مسترد کر دی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں سی ای او پی آئی اے کو کام سے روکنے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے سی ای او پی آئی اے ارشد محمود ملک کی کام جاری رکھنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ادارے کے امور کو چلانے کا اختیار بورڈ آف گورنرز کو سونپ دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پی آئی اے کا بورڈ آف گورنرز پی آئی اے کے امور چلائے، سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین پی آئی اے کے تقرر کے طریقۂ کار کے حوالے سے پہلے ہی مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمہ اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سمیت تمام مقدمات کو یکجا کر کے سنیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی آئی اے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، یہ قوم کی ملکیت ہے، اس ادارے کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی آئی اے کو کیسے چلایا جا رہا ہے، چیئرمین پی آئی اے کی تقرری کے طریقۂ کار کے تعین کے لیے سپریم کورٹ میں بنیادی انسانی حقوق کا مقدمہ موجود ہے۔ سپریم کورٹ میں سی ای او پی آئی اے کو کام سے روکنے کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آج اخبار میں خبر ہے کہ کسی ایئر کموڈور کو 70 کروڑ روپے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ جنگ اخبار میں 3 کالمی خبر چھپی ہے، خبر کے مطابق ایک ایئر کموڈور کی 2 ماہ پہلے فرم رجسٹر کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں