32

بچوں سے زیادتی کے انسداد کی پالیسی کب بنے گی؟ ماہرہ کا حکومت سے سوال

کراچی(فری ہینڈ نیوز)اداکارہ ماہرہ خان نے انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری سے سوال کیا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے حوالےسے حکومتی جامع پالیسی کب تیار ہوگی۔ قصور کی ننھی زینب اور فرشتہ کے واقعے کے بعد حال ہی میں نوشہرہ کی 8 سالہ ننھی عوض نور کے واقعے نے ایک بار پھر پورے پاکستان کو غمگین کردیا ہے۔ اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلنے والی ننھی عوض نور کو درندوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بڑی ہی بے رحمی سے گلاگھونٹ کر قتل کردیا۔ اداکارہ ماہرہ خان نے ایک اور معصوم ننھی کلی کے ساتھ پیش آنے والے خوفناک واقعے پر آواز بلند کرتے ہوئے براہ راست حکومت اورانسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے ’’ ڈیئر شیریں مزاری دو ہفتے ہوگئے ہیں کیا پالیسی تیار ہوگئی؟‘‘ ماہرہ خان نے اپنے ٹوئٹر بیان میں مزید کہا ایک اور معصوم بچی کو زیادتی کرکے قتل کردیا گیا اور کتنے دن لگیں گے؟ براہ کرم ان بھیڑیوں کےمعاملے میں سختی کریں۔ واضح رہے کہ 30 دسمبر کو انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے زینب الرٹ بل کے بارے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاشرے کو متحد ہونے اور تمام سطحوں پر ذہن سازی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم پہچان سکیں کہ ہمارے درمیان بھیڑئیے موجود ہیں۔ ہم وزیراعظم کی ہدایت کے تحت بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے حوالے سے ایک جامع پالیسی تیار کررہے ہیں اور دو ہفتوں میں اس پالیسی کو تیار ہوجانا چاہیئے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس میں شامل کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں