36

سموسہ فروش بچے کی تعلیم کا خرچہ اُٹھالیا گیا

کراچی(فری ہینڈ نیوز) باسم احمد فریدی نامی اسکول کے پرنسپل نے اسپتال کے باہر سموسے بیچنے والے چوتھی جماعت کے کم سن طالب علم کا انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم کا خرچہ اُٹھا لیا۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک زاہد نامی بچے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ کراچی کے کسی اسپتال کے باہر سموسے بیچ رہا ہے، یہ ویڈیو عتیقہ مرزا نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے بنائی۔ زاہد سے اُس کے بارے میں جب پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ چوتھی کلاس میں پڑھتا ہے اور روزانہ اسکول کی چُھٹی کے بعد یہاں دس دس روپے میں سموسے بیچتا ہے۔ زاہد کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کراچی کے ’اسپیک اینڈ اسپیل اسکولنگ سسٹم‘ کے پرنسپل نے زاہد کی انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم کا خرچہ اُٹھانے کا ذمہ لے لیا۔ گزشتہ روز باسم احمد فریدی نامی پرنسپل نے فیس بُک پر زاہد اور اُس کے والد کے ہمراہ کُچھ تصاویر شیئرکیں جس کا اُنہوں نے ایک طویل کیپشن لکھا۔ اُنہوں نے لکھا کہ ’الحمداللّہ مجھے اُس بچے سے ملنے کا موقع ملا جس کی ویڈیو گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی تھی۔ باسم احمد فریدی نے لکھا کہ ’زاہد کا تعلق ایک افغان نژاد خاندان سے ہے اور وہ ایک ایسے مکان میں رہتا ہے جہاں اُس کے نانا اور والد پچھلے 30 سال سے رہائش پزیر تھے۔ اسکول پرنسپل نے لکھا کہ ’زاہد کی 4 بہنیں ہیں اور 2 بھائی ہیں، زاہد اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے۔ اُنہوں نےلکھا کہ ’زاہد ایک غریب اور سفید پوش خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو محنت مزدوری کرکے اپنے گھر کا چولہا جلاتے ہیں لیکن کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ اُنہوں نے لکھا کہ ’زاہد کے والدین سے ملاقات کرنے کے بعد میں نے اُن کو زاہد کی تعلیم کے انٹرمیڈیٹ تک کے تمام اخراجات اُٹھانے کی پیش کش کی ہے چونکہ میرا اپنا اسکول اور کوچنگ سینٹر ہے، اِس لیے زاہد کی انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم کے اخراجات میں اُٹھاؤں گا اور وہ میرے ہی اسکول میں میٹرک تک کی تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے لکھا کہ ’میں نے زاہد کو تعلیم کی پیش کش اِس وجہ سے کی ہے تاکہ اُس چھوٹے بچے کا مستقبل بن جائے اور میری اِس پیش کش کو زاہد کے والدین نے بھی قبول کرلیا ہے۔ اسکول پرنسپل نے لکھا کہ ’زاہد کے والد کی سہراب گوٹھ پر ایک اسٹیشنری کی دُکان ہے نیز اِس خاندان کو رہنے کے لیے ایک جگہ کی بھی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے مزید لکھا کہ ’میں نے جب سے زاہد کی تعلیم کے اخراجات اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تب سے مجھے بہت سی این جی اوز سے فون آرہے ہیں اور وہ سب زاہد کی تعلیم کے لیے مالی امداد دینے کی آفر کر رہے ہیں لیکن زاہد کی تعلیم کا ذمہ صرف میرا ہے اور اِس مقصد کے لیے میں کسی دوسرے سےمالی امداد قبول نہیں کروں گا۔ اُنہوں نے اپنی پوسٹ میں طلحہٰ خان نامی اُس شخص کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے زاہد سے اُن کی ملاقات کروائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں