37

گومل یونیورسٹی طالبات کو ہراساں کرنے والوں کی سر پرستی میں انتظامیہ شامل

پشاور(فری ہینڈ نیوز) گومل یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی پر انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، جس کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبات کو ہراساں کرنے والوں کی سرپرستی کی۔ گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان میں جنسی ہراسگی، جعلی ڈگریوں کے اجراء، منشیات فروشی اور بلین ٹری سونامی میں بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کی ہدایت پر قائم انکوائری کمیٹی نے تحقیقاتی رپورٹ گورنر کو ارسال کردی ہے، جس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب سیکریٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم حسن محمود یوسفزئی کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبات کو ہراساں کرنے والوں کی سرپرستی کی۔ عربی اور اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر کے خلاف انکوائری کی گئی جس میں پروفیسر کو تنبیہ اور انتظامی ذمہ داری سے ہٹانے سمیت عربی اور اسلامک اسٹڈیز کا شعبہ خاتون ٹیچر کو دینے کی سفارش کی گئی، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے قانون کو یونیورسٹی میں لاگو کرے، تمام جامعات میں جنسی ہراساں کرنے سے متعلق کمیٹیاں قائم کی جائیں، 19 گریڈ کی خاتون آفیسر کو کمیٹی کا سربرا مقرر کیا جائے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے جعلی ڈگریاں جاری ہونے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ بی اے اور بی ایس سی کی جعلی ڈگریاں 2015 اور 2018 میں جاری ہوئیں۔ کمیٹی نے جعلی ڈگریاں دینے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آئس سمیت دیگر منشیات یونیورسٹی میں دستیاب اور فروخت کی جاتی ہیں، جس کا اعتراف یونیورسٹی کے وی سی اور رجسٹرار نے بھی کیا۔ یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار ایڈمن کو منشیات فروخت کرنے کے حوالے سے علم تھا تاہم اس نے انتظامیہ کو تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا جس پر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ چانسلر گومل یونیورسٹی کے وی سی اور رجسٹرار کو مناسب اقدامات نہ کرنے پر وارننگ دیں۔ رپورٹ کے مطابق لینڈ ڈیولپمنٹ کمیٹی نے ڈھائی ہزار کنال پیداواری زمین پر شجرکاری کے فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا۔ گومل یونیورسٹی کی زمین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے لیے محکمہ جنگلات کو لیز پر دی گئی، جس میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ آڈٹ رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب سیکریٹری اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا حسن محمود یوسفزئی نے جیو نیوز کو بتایا کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا اور جو بھی غفلت کا مرتکب ہوا اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں