22

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دنیا کو ایک اور خطرے سے خبردار کردیا

نیویارک(فری ہینڈ نیوز) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گواٹیرس نے لاک ڈاؤن کے دوران خطرناک حد تک گھریلو تشدد میں اضافے سے متعلق خبردار کردیا۔ برطانوی اخبار کے مطابق امریکا کی نیشنل ڈومیسٹک وائلینس ہاٹ لائن جسے گھریلو تشدد سے متعلق 2 ہزار کالز یومیہ موصول ہوتی ہیں، نے کہا ہے کہ 10 سے 24 مارچ کے درمیان انہیں روزانہ اوسطاً 951 ایسی کالرز موصول ہوتی ہیں جو کووڈ 19 کا شکار ہیں اور ساتھ میں گھریلو تشدد بھی برداشت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اسپین کے کتالانیا علاقے میں گھریلو تشدد سے متعلق شکایات میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح قبرص میں 9 مارچ کے بعد ایسی کالز میں 30 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق عالمی وبا کے پھیلنے کے بعد سے لے کر اب تک لبنان اور ملائیشیا میں گھریلو تشدد کی شکایات درج کروانے والی کالز میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین میں تو ان کالز میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں برٹش چیرٹی ریفیوج کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے بعد گھریلو تشدد سے متعلق کالز میں معمول سے 25 فیصد زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوٹیرس کا کہنا تھا کہ کئی خواتین اور لڑکیوں کے لیے گھروں میں یہ مسئلہ بہت بڑا ہے، جہاں انہیں سب سے محفوظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج نئی اپیل کر رہا ہوں، اور یہ اپیل دنیا کے ایک ایک گھر لیے ہے کہ وہ اپنے گھروں میں سکون رکھیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ ایسے ممالک جن کا میں نام نہیں لوں گا، لیکن وہاں پر خواتین کی جانب سے ہیلپ لائن پر کالز دگنی ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پوری دنیا کورونا وبا کا سامنا کر رہی ہے، ایسے صحت کے شعبے میں کام کرنے والے کورونا مریضوں کی دیکھ بھال، پولیس محکمہ لاک ڈاؤن کی صورتحال کو دیکھنے جبکہ رضاکار اسی سے متعلق دیگر امور میں لگے ہوئے ہیں اور ان کے پاس گھریلو تشدد کے کیسز سے نمٹنے کا عملہ موجود نہیں ہے۔ آنٹونیو گواٹیرس نے کہا کہ میں اس تمام تر صورتحال کے باوجود حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد سے متعلق ضروری اقدامات اٹھائیں جو کووڈ 19 میں ان کے ردِ عمل کا حصہ ہونے چاہئیں۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے 23 مارچ کو دنیا کو دینا سے اپیل کی تھی کہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے دنیا میں ہر جگہ جنگ بندی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں