84

اٹلی:مختلف ممالک میں نمازعید اور مختلف مکتبہ فکر کے نظریات نے تارکین وطن کو آپس میں تقسیم کردیا

اٹلی(تحریر:محمد الیاس چوہان)اٹلی اور مختلف ممالک میں نماز عید اور مختلف مکتبہ فکر کے نظریات اور سوچ نے پاکستان کمیونٹی کو آپس میں تقسیم کردیا جوں جوں مساجد بنتی گئ مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے گئے دین اسلام کو مذہبی فرقوں اور مذہبی گروپوں کے پیشواوں سے منسوب کردیا گیا اور وعظ ان کے ناموں اور قولوں۔ باتوں سے منسوب ہونے لگے اور دیں میں بدعات ہونے لگی جن کا دین اسلام سے دور دور تک کوئ تعلق نہیں ہوتا واعظ مسجدوں میں انکی مرضی کے مطابق ہونے لگے جس پر محترم شفیق بٹ صاحب نے بڑی تفصیل سے ایک جامع اصلاحی تحریر بھی لکھی جو کہ ہم سب کے لئے بہت ہی اصلاحی پیغام ہے ۔اور میں مکمل انکی تحریر اور سوچ سے اتفاق کرتا ہوں اور اسی پر آج چند الفاظ اپنے اس میں شامل کرکے ایک مثبت اقدام کے سوچ کی طرف توجہ دلانے مقصد ہے اللہ مجھے بھی عمل کی توفیق اور ہدایت پر رکھے بے شمار غلطیوں کا گنہگار ہوں جیسا کہ بات ہورہی تھی مذہبی گروہوں اور فرقوں کی کہ مختلف رنگ کی پگڑی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ہر ایک نے اپنا گروپ بنا لیا اور ہمیں اور دیں کو مختلف شکلوں میں تبدیل اور تقسیم کر دیا اس پیارے دین کو فتوی اپنی مرضی کے دینے لگے محترم شفیق بٹ صاحب آپ کی تحریر میں سوفیصد حقائق ہیں مجھے اچھی طرح یاد ہے اور مجھ پہ سب گزری ہوئی ہے میں نے اور ساتھیوں ملکر اپنی بلونیا کمیونٹی اٹلی کو لگ بھگ16 سال تک ایک صرف مسلمان پاکستانی پلیٹ فارم سے نماز عید کے لئے ایک ہی جگہ کی اور ایک ہی دن کی کاوش کی ہے اور بڑی پر خلوص محبتوں بھری عید ایک بڑے ہال میں ادا کی جاتی رہی جہاں مقصد کمیونٹی اور دیں کو متحد رکھنا اور ہر مکتبہ فکر کا احترام کرنا تھا اور نماز عید کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کو اس مذہبی خوشی کے دن کی مناسبت سے آپس میں ملاقات کروانا اور قرآن سنت کے مطابق نماز عید ادا کرنا ہوتا تھا اللہ کی رضا کے لئے مگر پھر وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا جب پاکستان سے دیں کے نام پر ادھر مختلف فرقوں کی اپنے اپنے روحانی پیشوا کے جھنڈے گاڑے گئے تو مسائل بڑھتے گئے جن میں زیادہ تر چندہ فطرانہ اور مالکانہ حقوق مختلف گروپ کے ایشو تھے پاکستان میں یہاں سے باقاعدہ چندے جانے لگے اور ان کے روحانی پیشواؤں نے مذہب کو مسلک فرقہ گروہ میں تبدیل کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی مرضی کے مسئلے وعظ و بیان ہونے لگے جو قرآن سنت کی بجائے ان روحانی پیشواؤں سے منسوب ہونے لگے جیسا کہ پہلے کبھی علما سے یہ سنا دیکھا تھا تاکہ اللہ کے نبی یا اللہ نے یہ فرما یا یہ حکم دیا ۔۔۔ اسکی جگہ اب مختلف روحانی پیشواؤں کے نام سے انکی طرف سے انکی مرضی کے مطابق دیں کی تبلیغ ہونے لگی ہے۔ان کا مقصد اپنے صرف ایجنڈے جھنڈے کو پرموٹ کرنا ہےاورچندہ بس چندہ انکو بھیجنا ہے۔

پیسا عوام کا مرضی انکی ۔
ان کے مطابق تو یو بنتا ہے کہ
میرا فرقہ میری مرضی
میری پگڑی میری مرضی
میری عید میری مرضی
میری مسجد میری مرضی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں