111

ٹائم ٹریول کی تاریخ اورمسلمان،کیاہم اپنے ماضی اورمستقبل میں جاسکتے ہیں اورآنے والی آفتوں کوپہلے ہی دیکھ سکتے ہیں

آپ سب نے ٹائم ٹریول یعنی وقت کی مسافت کو تیزی سے آگے پھلانگنا یا پیچھے جانا اس کے بارے میں سنا تو ہوگا بلکہ اس متعلق ہالی وڈ میں بنی کئی فلمیں بھی دیکھی ہونگی۔ جن میں دیکھایا جاتا ہے کہ ایک آدمی آج سے تین سو سال بعد آگے یا پیچھے چلا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ چیزیں آج کل جدید سائنس کی مدد سے سچ ہو رہی ہیں جبکہ دین اسلام میں یہ بہت پہلے کی ہو چکی ہیں۔ جن چیزوں کا ہمیں چودہ سو سال پہلے معلوم ہو چکا سائینس انہیں آج مان رہی ہے۔ مختصرا یہ کہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔پھیلا کر گوشہ ء دامنِ تجسس اپنا۔۔۔۔سائنس محمد ﷺ کا پتہ پوچھ رہی ہے۔۔۔۔۔اسلام میں ٹائم ٹریولنگ کے یوں تو بے شمار واقعات ہو چکے ہیں جیسے نعمت اللہ شاہ ولی کا مستقبل میں جا کر واپس آنا اور پھر مستقبل کے حالات کو اپنے شعروں میں پیش کرنا وغیرہ ۔ لیکن اسلام کا سب سے بڑا ٹائم ٹریول واقعہ معراج مانا جاتا ہے۔ اگر ہم اس معجزے کو سائنس کے جدید قوانین اور اصولوں پر پرکھیں تو ان لوگوں کے لئے سمجھنا آسان ہوجاتا ہے جو سائنس کی وجہ سے دین پر ایمان رکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔بہت سارے لوگ جو سفر اسراء و معراج کے ماننے سے انکاری ہیں ان کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ رات کے کچھ لمحوں میں آسمانوں کی سیر کرنا کیسے ممکن ہے؟ ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں جانے کے لئے سب سے تیز ترین روشنی کی رفتار سے بھی اگر سفر کیا جائے تو لاکھوں کروڑوں نوری سال درکار ہوں گے۔ اس سے پہلے کہ ہم سائنس کا ذکر کریں، پہلے ہم سمجھتے ہیں کہ اسراء و معراج ہے کیا۔ جیسا کہ اللہ نے سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت فرمایا:”پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔” چودہ سو سال قبل ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے صرف گھوڑے، اونٹ کی سواری موجود تھی اور گھوڑے اونٹ پر سواری اگر مکہ سے یروشلم کریں تو تقریبا 30 سے 40 دن درکار ہوں گے لہذا اللہ نے اپنے نبی کے لئے وہ سواری بھیجی جسکی رفتار روشنی یا روشنی سے بھی تیز تھی جسے “البراق” کہا گیا ہے۔ براق ماخوذ ہے برق سے ہے اور براق اسے کہتے ہیں جس کا مطلب بجلی یا روشنی کی رفتار سے چلنے والی شے یا جاندار۔ اس براق کی سواری پر مکہ سے بیت المقدس کا سفر پلک جھپکنے سے بھی تیز ثابت ہوا کیونکہ یہ سواری روشنی کی رفتار سے سفر مکمل کرتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک انسان اتنی تیز رفتار برداشت کرسکتا ہے؟ تو اس کا جواب بھی ہمیں حدیث سے ملتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا “(معراج پر سفر سے پہلے) میرے پاس جبریل (علیہ اسلام) آئے اور میرا سینہ چاک کیا، میرے دل کو نکالا گیا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا جس میں ایمان بھرا ہوا تھا، میرے دل کو اس میں دھویا گیا اور واپس میرے سینے میں اسے رکھ دیا۔”(صحیح بخاری، حدیث نمبر 3887) یعنی سینہ چاک کرکے دل کو اللہ نے اتنا مضبوط فرما دیا کہ آپ ﷺ کو روشنی کی رفتار برداشت کرنے کی طاقت عطا فرما دی۔ پھر مسجد الحرام سے مسجد الاقصی لے جایا گیا اور وہاں سے آسمانوں کی طرف، احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے، پہلے آسمان سے ساتویں آسمان تک اور پھر سدرة المنتھی جو کائنات کی آخری حد ہے، جہاں رب تعالی کا عرش مبارک ہے وہاں تک یہ سفر مکمل ہوکر اختتام پزیر ہوا اور اس سفر کے درمیان اللہ نے آپ کو جنت اور دوزخ کے مناظر بھی دکھائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں