101

بھارت کی چین اور پاکستان کیساتھ ایکساتھ جنگ کی تیاریاں!! کیا کچھ بڑ ا اور خطر ناک ہو نے والا ہے ؟ تشویشناک خبر آگئی

نئی دلی(نیوز ڈیسک) بھارت ایک جانب پاکستان اور چین کے ساتھ کشیدگی کو جان بوجھ کر بڑھا رہا ہے تو دوسری جانب اسی کشیدگی کا بہانہ بنا کر اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں 5.5 فیصد کا غیرمعمولی اضافی کردیا ہے۔ گزشتہ سال یہ بجٹ 43.59 ارب ڈالر تھا جو اب 46.16 ارب ڈالر (تقریباً 54 کھرب پاکستانی روپے) تک پہنچ گیا ہے۔ جنگ و امن سے متعلقہ معاملات پر تحقیق کرنے والے ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ بھارت نے یہ قدم ایک ایسے وقت پر اٹھایا ہے جب ایشیا میں ایٹمی تصادم کا خطرہ پہلے ہی بڑھ رہا ہے۔ادارے نے اپنی خصوصی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے چین اور بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ہتھیاروں کی دوڑ بتدریج ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی جانب منتقل ہوتی جارہی ہے اور یہ صورتحال کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔اس وقت خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ بھارت کے پاس 120 ایٹمی ہتھیار بتائے جاتے ہیں جبکہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد تقریباً 130 بتائی جاتی ہے۔ چین، جو کہ دنیا میں سب سے بڑے دفاعی اخراجات والے ممالک میں شامل ہے، کے پاس تقریباً 260 ایٹمی ہتھیار ہیں۔دوسری جانب نئی دلی انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کار لکشمن کمار کا کہنا ہے کہ بھارت کے دفاعی بجٹ میں اضافے کا بڑا حصہ مینٹیننس اور آپریشن سے متعلقہ اخراجات پر صرف ہورہا ہے۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ بھارت کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے کی کوشش ہے۔ ان کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں پر ہی اتنی رقم خرچ ہوجاتی ہے کہ ہتھیار اور سامان خریدنے کے لئے بہت کم رقم بچتی ہے۔بھارتی فوج کے وائس چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل سارتھ چند بھی مارچ میں ایک پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بتاچکے ہیں کہ دفاعی بجٹ کا محض 14 فیصد حصہ عسکری جدت پر خرچ ہورہا ہے۔ اگرچہ بھارتی سرکار نے ملک میں ہتھیاروں کی تیاری کے لئے کافی کوششیں کی ہیں لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ اب بھی صورتحال یہ ہے کہ بھارت اپنے بیشتر ہتھیار باہر سے سے خریدنے پر مجبور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں